India

سوال # 161266

انڈیا میں ایک بینک اسلامی بینکنگ کے طرز پر چلایا جاتا ہے، اور بینک کا انکم کا ذریعہ لون کے اوپر سروس چارج کا لینا ہے اور چائے کا خرچ بینک کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے، ایسے بینک میں چائے پینا کیسا ہے؟ اس معاملہ میں براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

Published on: Oct 9, 2018

جواب # 161266

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:907-1198/N=1/1440



قرض شریعت کی نظر میں خالص عقد تبرع ہے، اس میں سود کے نام سے یا سروس چارج کے نام سے یا فارم کی بیع کو حیلہ بناکر مزید کچھ بھی لینا سود اور ناجائز ہے، شریعت میں نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی اور جس بینک کی اکثر آمدنی اسی مد کی ہو اور چائے کاخرچ بینک کی طرف سے کیا جاتا ہو تو ایسے بینک میں چائے پینا جائز ودرست نہ ہوگا۔



قال اللّٰہ تعالی: وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)، عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷: ۳۹۸- ۴۰۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، أھدی إلی رجل شیئا أو أضافہ إن کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس إلا أن یعلم بأنہ حرام، فإن کان الغالب ھو الحرام ینبغي أن لا یقبل الھدیة ولا یأکل الطعام إلا أن یخبرہ بأنہ حلال ورثتہ أو استقرضتہ من رجل کذا فی الینابیع۔ ولا یجوز قبول ھدیة أمراء الجور؛ لأن الغالب في مالھم الحرمة إلا إذا علم أن أکثر مالہ حلال بأن کان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس بہ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام فالمعتبر الغالب، وکذا أکل طعامھم کذا فی الاختیار شرح المختار(۴: ۱۸۷ط دار الکتب العلمیة بیروت) (الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب الثاني عشر فی الھدایا والضیافات۵: ۳۴۲ط مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات