india

سوال # 158189

حضرت مفتی صاحب! ایک پرندہ ہوتا ہے جس کا نام ”ترکی“ (TURKEY) ہے، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس پرندہ کا گوشت مسلمان کو کھانا جائز ہے؟ حضرت، مجھے کسی نے بتایا کہ ترکی پرندہ کا کاروبار کرنا اور اس کا گوشت کھانا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں۔
مہربانی کرکے جلد از جلد مجھے اس کا صحیح مسئلہ بتائیں۔ شکریہ

Published on: Feb 14, 2018

جواب # 158189

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 463-422/N=5/1439



انگریزی میں جس پرندے کو ترکی (Turkey)کہتے ہیں، یہ مرغ ہی کی ایک قسم ہے، اسے عربی میں دیک رومي یا دجاجة رومیة کہتے ہیں اور مرغ اور اس کی تمام اقسام شریعت میں حلال وجائز ہیں؛ اس لیے ترکی پرندہ کا گوشت کھانا اور اس کا کاروبار کرنا جائز ہے۔ اور جو لوگ ناجائز کہتے ہیں، ان کی بات صحیح نہیں۔



وما لا مخلب لہ من الطیر فالمستأنس منہ کالدجاج والبط، والمتوحش کالحمام والفاختة والعصافیر والقبج والغراب الذي یأکل الحب والزرع والعقعق ونحوھا حلال بالإجماع (بدائع الصنائع، کتاب الذبائح، ۶: ۱۹۴، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، ونقلہ عنہ فی الھندیة (کتاب الذبائح، الباب الثاني في بیان ما یوٴکل من الحیوان وما لا یوٴکل، ۵: ۲۸۹، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، وانظر المورد، انکلیزي - عربي، ص ۹۹۸أیضاً۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات