india

سوال # 157410

کیا کہتے ہیں مفتیان کرام مرغے کی گوشت کے بارے میں جس کو گرم اگ میں ڈال کر صاف کرتا ہے دوکاندار؟

Published on: Jan 3, 2018

جواب # 157410

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:417-375/L=4/1439



مرغ کو ذبح کرنے کے بعد اگر پیٹ چیر کر انتڑیاں وغیرہ نکال کر گرم پانی میں ڈالا جائے تو گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر انتڑیاں وغیرہ نکالنے سے پہلے ڈالا جائے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اتنی دیر گرم پانی میں کھولادیا جائے کہ نجاست گوشت کے اندر پیوست ہوجائے تو یہ بالکل ناپاک ہوجائے گااور دھونے کے باوجود پاک نہ ہوگا؛البتہ اگر پانی غلیان کی حد تک گرم نہ ہو یا مرغ وغیرہ کو محض اتنی دیر تک اس میں رکھا جائے کہ پانی کی حرارت جلد کی سطح تک پہنچ جائے اور کھال کے مسامات کھل جائیں تاکہ کھال صاف کرنے میں آسانی ہو تو اس صورت میں تین دفعہ دھونے سے گوشت پاک ہوجائے گا۔قال فی المراقی: وعلی ہذاالدجاجة المغلی قبل اخراج امعائہا(مراقی )وفی حاشیتہ :یعنی لوألقیت الدجاجة حال غلیان الماء قبل أن یشق بطنہا لنطف اور کرش قبل أن یغسل إن وصل الماء إلی حد الغلیان ومکثت فیہ بعد ذلک زماناً یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم لا تطہر ابداً إلا عند أبی یوسف رحمہ اللہ کما مر فی اللحم، وإن لم یصل الماء إلی حد الغلیان أو لم تترک إلا مقدار ما تصل الحرارة إلی سطح الجلد لإنحلال مسام السطح عن الریش والصوف تطہر بالغسل ثلاثاً کما حققہ الکمال (مراقی الفلاح مع الطحطاوی:۱۶۰-۱۶۱)



نوٹ: اگر مرغ کو ذبح کرکے آگ پر اتنی دیر تپادیاجائے کہ نجاست کا اثر گوشت میں سرایت کرجائے تو اس کا کھانا بھی جائز نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات