Israel

سوال # 157002

حضرات مفتیان کرام بخوبی جانتے ہیں کہ تجارتی پھیلاؤ کے سبب جتنے نت نئے طریقے ایجاد ہوتے جا رہے ہیں اتنے ہی نئے سوالات و جوابات کا سلسلہ بھی دراز ہوتا جاتا ہے ۔ اللہ تعالی آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ ہر وقت امت کی رہبری فرماتے ہیں۔ اس وقت بھی ایک مسئلہ مرغیوں کے ذبح کے سلسلے میں نیا پیش آیا ہے ۔ اب تک ہمارے یہاں یہ صورت تھی کہ ذبح میں سہولت ہونے اور زیادہ مقدار میں مرغیوں کے ذبح ہونے کے لئے پہلے مرغیوں کو بیہوش یا نیم بیہوش کر لیا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس صورت میں جانور کی طرف سے مزاحمت نہیں رہتی۔ دوسرے طبی اعتبار سے بھی غالبا ًتسہیل پیش نظر ہوتی ہے اگرچہ شریعت مطہرہ ان چیزوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔ اسی وجہ سے اس کو مکروہ اور نا پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے ۔ تاہم یہ ایک رائج طریقہ ہے ۔ اور اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ مرغیوں کو الٹا لٹکا کر کے ایک چین میں لٹکا دیا جاتا ہے ۔ وہ چین مشین سے گھوم رہی ہوتی ہے اور اس کے کچھ نیچے پانی ہوتا ہے ۔ اور اس پانی میں معمولی درجے کا کرنٹ ہوتا ہے ۔ جب وہ الٹی لٹکی ہوئی مرغی کی چونچ پانی سے مس کرتی ہے تو کرنٹ کی وجہ سے مرغی نیم بیہوش ہو جاتی ہے جس کو مسلم ذابحین بذریعہ بسم اللہ اپنے ہاتھ سے ذبح کردیتے ہیں۔ اگر اس مرغی کو ذبح نہ کیا جائے تو وہ چند منٹوں میں ہوش میں آجاتی ہے ۔ اس صورت کو یہاں علماء نے اور دارالعلوم کراچی کے علماء کے فتاوی کی روشنی میں صحیح بتایا ہوا ہے اور اس پر شکاگو کے شریعہ بورڈ کی جانب سے مذکورة سلاٹر ہاؤز والوں کو حلال کا سرٹفکیٹ بھی دیا جاتا ہے ۔ اس طریقہ میں پچاس ہزار مرغیاں ایک دن میں آسانی سے کٹ جاتی ہیں، یہاں کے تجار کے اعتبار سے یہ مقدار بہت کم ہے اور گاہکوں کے تقاضہ کے اعتبار سے بہت نا کافی ہے ۔ اس کی تلافی کے لئے اب ایک اور نیا طریقہ مذکورہ سلاٹر ہاؤز والے اختیار کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ نیا طریقہ مرغی کو بے ہوش کرنے کے لئے غیر مسلموں میں پہلے سے رائج ہے اور یہ زیادہ تر"ٹرکی مرغی"(خاص قسم) کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اس سے ایک فائدہ کاروبار کرنے والے کو یہ ہو گا کہ یومیہ ذبح کی مقدار پچا س ہزار سے بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ جاتی ہے ۔ اور دوسرا مقصد اس میں یہ بھی ملحوظ ہے کہ اس سے ذبح کے بعد خون زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے ۔ نیز پوری طرح مذبوح کے جسم سے خارج ہو جاتا ہے ۔ حتی کہ جوڑوں یا دیگر اعصاب میں ذبح کے بعد بھی بعض جگہوں پر جو خون رہ جاتا ہے ان جگہوں سے بھی پوری طرح خارج ہو جاتا ہے اور گوشت بہت صاف ستھرا ہوتا ہے اور طبی اعتبار سے بھی حکومت اس کو زیادہ پسندیدہ قرار دے رہی ہے ۔
۲ -اس طریقہ میں جانور کو بے ہوش کرنے کے لئے بجائے کرنٹ کے گیس بذریعہ سانس جسم میں پہنچائی جاتی ہے جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ(سی او ٹو) نامی گیس ہوتی ہے ۔اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مرغیاں جب چین سے لٹکی ہوئی آ رہی ہوتی ہیں تو ایک حجرہ نما مشین سے گزرتی ہیں، اس مشین سے مرحلہ وار گیس خارج ہوتی رہتی ہے حتی کے پانچویں مرحلہ میں جو گیس اس مشین سے خارج ہو کر بذریعہ تنفس مرغی میں پہنچتی ہے تو مرغی پوری طرح بے ہوش ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد ایک منٹ سے ڈیڑھ منٹ کے اندر ذبح کر لیا جاتا ہے جس سے بہت اچھی طرح خون خارج ہو جاتا ہے ۔ مذبح خانہ کے ذمہ داروں اور مشین کے ماہرین سے پوچھنے پر انھوں نے یہ باتیں بتائیں:
۱- اس بے ہوشی سے مرغی واپس نہیں آ سکتی۔
۲- مرغی گیس دئیے جانے کے بعد زندہ ہوتی ہے اور تقریبا ً۳ منٹ کے بعد مر جاتی ہے ۔
۳- اور اس گیس کے دینے کے بعد مرغی کا دل صرف بیس (۲۰)فی صد کام کر رہا ہوتا ہے ، اسی (۸۰) فی صد کام نہیں کرتا ہے ۔
۴- مرغی کے اعضاء میں تناؤ نہیں ہوتا بلکہ زندہ مرغی کی طرح اگر ان کو موڑا جائے تو آسانی سے مڑ جاتے ہیں ، مردہ جانور کی طرح اکڑے ہوئے یا سخت نہیں ہوتے ۔البتہ مکمل بے ہوش ہونے کی وجہ سے بظاہر دیکھنے میں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ۔
۵- مشین والوں سے یہ سوال بھی کیا گیا ، آیا اس گیس کو کم کیا جا سکتا ہے ؟ مثلا ً یہ کہ صرف چار مرحلوں تک گیس پہنچے ، پانچویں مرحلہ تک نہ پہنچے ؟ تو انھوں نے بتایا کہ نہیں یہ مشینی سیٹ اپ ہے ، یہ اسی طرح کام کرتی ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طریقہ کار سے ذبح شدہ مرغی کو حلال قرار دیا جائے گا یا نہیں؟
بینوا توجروا

Published on: Jan 25, 2018

جواب # 157002

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:367-56T/L=5/1439



مذکورہ بالا طریقہ پر مرغی کو ذبح کرنے میں قطعِ نظر اس کے کہ یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟یہ شبہ ہمیشہ باقی رہے گاکہ مرغی کو ذبح اس کی حیات کی حالت میں کیا گیا ہے یا بعدالممات؛اس لیے اس طریقے پر مرغی کو ذبح کرنے سے احتیاط ضروری ہے ۔قال علیہ السلام:دع مایریبک الی مالا یریبک․ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات