India

سوال # 153702

کیا عیسائی دوست کے گھر میں ذبح کیا گیاحلال گوشت مسلمان کھا سکتا ہے ؟

Published on: Aug 26, 2017

جواب # 153702

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1421-1369/L=12/1438



 اگروہ شخص واقعیعیسائی ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اور انجیل کو آسمانی کتاب تسلیم کرتا ہے اورذبح کے دیگر شرائط مثلاً ذبح کرتے وقت تسمیہ پڑھنا،عروق ذبح میں سے کم ازکم تین عروق(رگ)کا قطع کرنا وغیرہ کی رعایت کر کے ذبح کرتا ہے تو اس کا ذبیحہ بنص قرآنی حلال ہے: قال تعالیٰ: وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابِ حِلٌّ لَّہُمْ (المائدة: ۵) وعن علي بن بي طلحة عن ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما ”وطعام الذین اوتوا الکتاب“ قال: ذبائحہم (إعلاء السنن․․․․)والکتابي من یوٴمن بیني ویقر بکتاب (شامی: ۹/۴۳۱)واضح رہے کہ آج کل کے جو اہلِ کتاب(یہودونصاریٰ) ہیں ان میں سے بالعموممحض قوم ونام کے اعتبار سے یہودی یا عیسائی سمجھے جاتے ہیں لیکن مذہب کے اعتبار سے وہ یہودی یا عیسائی بالکل نہیں؛ بلکہ خود وہ لوگ نفس مذہب ہی کو بے کار بتلاتے ہیں،ان کا نہ تو حضرت موسیٰ یا عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان ہے اور نہ ہی وہ توریت اور انجیل کو آسمانی کتاب تسلیم کرتے ہیں وہ محض الحاد ودہریت کے خیالات رکھتے ہیں جو کہ ان میں سائنس کے استعمال وانہماک سے یا ایسے لوگوں کی صحبت سے پیدا ہوگئے ہیں، چنانچہ ان کی تقریرات وتحریرات اس پر شاہد ہیں پس ان لوگوں کا قوم یہودی یا عیسائی سے شمار کیا جانا یا ان کا اپنے کو بہ مصلحت تمدنی عیسائی یا یہودی کہہ دینا کافی نہیں۔ جب یہودی یا عیسائی نہیں تو ایسے شخصوں کے احکام بھی مثل اہل کتاب کے نہ ہوں گے، پس ذبیحہ بھی ان کے ہاتھ کا حلال نہ ہوگا اور جب اکثر ایسے ہیں تو تاوقتیکہ بالیقین کسی خاص ذبیحہ کے ذابح کا اعتقاداً کتابی ہونا بالیقین ثابت نہ ہوجائے ان ذبائح سے عموماً ا حتیاط واحتراز واجب ہے۔ ”لأن العبرة للغالب الشائع لا للنادر (قواعد الفقہ: ۹۱) وفي الشامي) والأولی ن لا یأکل ذبیحتہم ولا یتزوج منہم إلا للضرورة“ (شامي: ۹/۴۳۰)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات