pakistan

سوال # 150403

کیا اِسٹنگ گرے مچھلی(Stingray fish) (سمندر کی ایک مچھلی جس کی دم پر کانٹے ہوتے ہیں) حلال ہے یا حرام؟
حضرت ! میرے ذہن میں ایک اشکال ہے جو دارالعلوم کی ویب سائٹ پر اسٹنگ گرے کے متعلق موجود ہے۔
مذکورہ لنک:۔ http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Food--Drinks/65590 یہ ہے۔
نیز میں اسٹنگ گرے مچھلی کے متعلق کچھ معلوماتی لنک دے رہا ہوں تاکہ آپ بھی اچھی طرح سے میری کی ہوئی تحقیق کی تصدیق کرسکیں۔
درحقیقت حال ہی میں پاکستان کے ایک نجی چینل پر اس اسٹنگ گرے مچھلی کے بارے میں ایک تفصیلی پروگرام ہوا ہے جس میں اس مچھلی کو ۱۰۰/ فیصد حرام بتانے پر زور دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے ہ یہ مچھلی کراچی میں ۸۰/ فیصد finger fish کے طور پر فرائی ہو کے لوگوں کے کاروبار کا باعث ہے اور finger fish کراچی میں بہت زیادہ مقبول ہے۔ میں آپ کو اس پروگرام کی لنک بھی دے رہا ہوں۔
پروگرام کی لنک یہ ہے:۔ https://www.youtube.com/watch?v=qYpHBE9-NeY
اس پروگرام میں اسٹنگ گرے مچھلی کو سمندری چمکادر (samandari chimkadar) کہہ کے مخاطب کیا ہے۔ پہلے میں بھی فنگر مچھلی کھاتا تھا پر اس پروگرام کے بعد سے میرے تمام والوں کو کراہت آئی، لیکن پروگرام کو دیکھنے کے بعد پاکستان کے تمام بڑے مدارس کی official websites پر اِسٹنگ گرے سے متعلق تلاش کیا، پر کوئی معلومات یا فتوی نہیں ملا۔ اور یہاں کے علمائے کرام بھی اس پروگرام پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جب آپ کی ویب سائٹ پر فتوی دیکھا تو بہت خوشی ہوئی۔ وکی پیڈیا ویب سائٹ پر اس کو کارٹی لیجینسآئی (cartilaginous ) کہا گیا ہے، مطلب کُرکُری اور مرمری ہڈی والی مچھلی۔ تصویری معلومات کے لیے آپ گوگل ویب سائٹ پر اِسٹنگ گرے (stingray) لکھ کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ شکریہ
امید ہے کہ آپ میرا اشکال دور فرمائیں گے۔

Published on: Jun 20, 2017

جواب # 150403

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 994-1188/L=9/1438



 اگر محققین وماہرین حیوانات اس کو مچھلی کی قسم میں شامل کرتے ہیں تو اس کا حکم بھی مچھلی کا ہوگا اور اس کا کھانا جائز ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات