India

سوال # 149088

زید نے بندوق کے ذریعے ایک چڑیا مارا اور وہ چڑیا بندوق کی گولی لگتے ہی ڈھیر ہو گئی تو اب اس چڑیا کویوں کھانا جائز ہے یا نہیں؟یا زید نے بندوق چلانے سے پہلے بسم اللہ اللہ اکبرپڑھ لیا تو اب اس کو بنا ذبح کئے کھانا جائز ہے یا نہیں۔ تفصیل کے ساتھ جواب دیں۔

Published on: Mar 7, 2017

جواب # 149088

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 447-424/N=6/1438



(۱، ۲): بندوق ، طمنچہ یا اس جیسے کسی اور غیر دھار دار آلہ سے سے کیا ہوا شکار حرام ومردار ہوتا ہے اگرچہ بسم اللہ، اللہ أکبر پڑھ کر بندوق وغیرہ چلائی جائے، ایسے شکار کا کھانا جائز نہیں؛ البتہ اگرگولی لگنے سے شکار مرا نہ ہو ؛ بلکہ زندہ ہو اور اسے کوئی مسلمان بسم اللہ، اللہ أکبر پڑھ کر شرعی طریقہ پر ذبح کردے تو وہ حرام ومردار نہ ہوگا اور اس کا کھانا حلال وجائز ہوگا۔ عن عدي بن حاتم قال: سألت النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن صید المعراض فقال: ما أصاب بحدہ فکلہ وما أصاب بعرضہ فھو وقیذ (صحیح البخاري، ص ۸۳۲)، ولا تأکل من المعراض إلا ما ذکیت ولا تأکل من البندقة إلا ما ذکیت رواہ أحمد (نیل الأوطار ۸: ۱۳۷)، ولایخفی أن الجرح بالرصاص إنما ہو بالإحراق والثقل بواسطة اندفاعہ العنیف، إذ لیس لہ حد، فلا یحل، وبہ أفتی ابن نجیم (رد المحتار، کتاب الصید ۱۰: ۶۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وأما الحنفیة فالجمہور منہم في دیارنا علی عدم حل المصید بالرصاص ما لم یدرک حیًّا فیذبح بطریق مشروع، وحجتہم ما مرّ عن ابن عابدین من أن الرمي بالرصاص رض ووقذ، ولیس جرحًا، وما ذکرہ الرافعي من أنہ إن وقع الشک ولا یُدري مات بالجرح أو الثقل کان حرامًا(تکملة فتح الملہم، کتاب الصید والذبائح، حکم الصید ببندقة الرصاص ۳:۴۹۱، ط: مکتبة دار العلوم کراتشي)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات