India

سوال # 11021

اگر کوئی شخص ہم کو جھوٹا پانی یا کھانا کھانے کو پیش کرتا ہے جب کہ ہمارا دل کسی کا جھوٹا کھانے یا پینے کو گوارہ نہیں کرتاہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام میں جھوٹا کھانا پینا جائز ہے اور اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانا اورایک ہی گلاس میں پانی پینا یا پھر کسی کا بچا ہوا پانی پینا سنت ہے۔ کچھ لوگ ایک ہی گلاس میں کئی لوگوں کو پانی پلاتے ہیں۔ ایک گلاس میں ایک نے پانی پیا پھر اسی میں دوسرے نے پانی پیا یا پھر کسی کا بچا ہوا پانی یا چائے وغیرہ پی لی۔ جب کہطبی نقطہ نظر سے بھی کسی کا جھوٹا کھانے یا پینے سے بکٹیریا انفیکشن ہوسکتا ہے۔ جب کہ ہم کو کراہیت محسوس ہوتی ہے اور یہ بھی لگتا ہے کہ کسی کے منھ میں گوئی مرض بھی ہو سکتا ہے۔ اور پھر آج کے دور میں ماشاء اللہ پانی کی کوئی کمی بھی نہیں ہے۔ ایسے مسائل میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں؟ برائے کرم قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ اگر ہمارا دل جھوٹا کھانے پینے کو گوارہ نہیں کرتا ہے اور کھانا پانی کی فراوانی ہے اس کی کوئی کمی نہیں ہے تو ایسی صورت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے؟

Published on: Feb 22, 2009

جواب # 11021

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 269=269/م


 


کسی شخص کا جھوٹا کھانے پینے میں آپ کو اگر طبعاً کراہت محسوس ہوتی ہے، تو آپ نہ کھائیں، پئیں، شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں، اجازت ہے، البتہ آدمی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہوتا بشرطیکہ اس میں نجس چیز شامل نہ ہو، یہ عقیدہ رکھنا چاہیے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات