India

سوال # 1093

پیارے مفتی صاحب! درج ذیل صورت حال سے متعلق حکم سے آگاہ فرمائیں۔ میرے ساتھیوں نے ایک دعوت کا پروگرام بنایا۔ مجھے ان کے پروگرام کا علم نہیں تھا۔ انھوں نے مجھ سے بھی جانے کو کہا اور میں نے ہامی بھرلی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں جارہے ہیں (ویسے ہم عموماً حلال ریسٹورینٹ میں ہی جاتے ہیں)۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس مرتبہ وہ مقامی بارمیں جارہے ہیں ۔ سب نے کھانا کھایا لیکن میں نے صرف سلاد لیا کیوں کہ شاید مینو میں حلال چیز صرف یہی تھی۔ جب ہر ایک نے مشروبات کا آرڈر دیا ، تو مجھ سے پوچھا گیا، میں نے ایک پھل کا (حلال) مشروب منگوایا۔ بعد میں محسوس ہوا کہ جس گلاس میں مجھے وہ مشروب دیا گیا اس گلاس میں شاید شراب پیش کی گئی ہو۔ اس خیال سے مجھ میں خوف اور پریشانی کا احساس ہے۔ از راہ کرم، مجھے بتائیں کہ کیا اس گلاس کی وجہ سے میرا مشروب حرام ہوگیا تھا اور وہ شراب پینے مساوی تھا؟ میں نے تہیہ کیا ہے کہ میں اب بار میں نہیں جاؤں گا، حتی کہ اسٹاف کے ساتھ کھانے کے لیے بھی نہیں۔

Published on: Sep 13, 2007

جواب # 1093

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 873/ ب= 817/ب


 


ضروری نہیں کہ جو گلاس آپ نے استعمال کیا ہو آپ سے پہلے اس میں شراب ہی پی گئی ہو، ممکن ہے کوئی مشروب پیا گیا ہو۔ اور اگر بالفرض شراب ہی پی گئی ہے تو غالب گمان یہی ہے کہ گلاس دوبارہ دھوکر استعمال کیا گیا ہوگا۔ اس لیے اس میں پیش کیا گیا مشروب پاک ہی سمجھا جائے گا اور اس کا پینا ناجائز شمار نہ ہوگا۔ البتہ ایسے مشتبہ برتنوں کے استعمال سے احتیاط برتنی چاہیے۔ اور ایسے بار میں نہیں جانا چاہیے جس میں حرام مشروبات او رحرام کھانے ہی پیش کیے جاتے ہوں۔ اور اگر بوجہ ضرورت کبھی جانا ہی پڑجائے تو برتنوں کو دھوکر استعمال کیا جائے اور پاک و حلال چیز ہی لی جائے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات