عقائد و ایمانیات - فرق باطلہ

India

سوال # 161415

حضرت، میری ازدواجی زندگی میں کچھ پریشانیاں ہیں۔ میں تذبذب میں ہوں کہ میری زندگی میں میرا اگلا قدم کیا ہونا چاہئے۔ شادی کے بعد مجھے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جہاں میرے سسرال والوں نے روزانہ مسئلہ پیدا کیا ہے۔ جب میں حاملہ تھی تو پہلی مرتبہ میں گرم چیز بنائی تھی کھانے کے لئے، اور یہ حمل ساقط ہونے کا سبب بن گیا۔
اللہ کے فضل و کرم سے دوبارہ پانچ ماہ بعد میں حمل سے ہوگئی لیکن یہ بھی کسی پریشانی کا سبب بن گیا اور دوسرا بھی حمل ساقط ہوگیا۔ اب میں نے اپنے والد کے گھر جانے کا مکمل طور پر ارادہ کرلیا ہے۔ چونکہ شادی کے بعد سے سال میں دو مرتبہ میرا حمل ساقط ہوگیا ۔ سسرال والوں کو نومولود بچے کی خواہش نہ تھی۔ اس لئے اگر بچہ پیدا ہوا تو وہاں کوئی بھی دیکھ بھال نہیں کرے گا۔
میں ۴/ سال سے اپنے والدین کے ساتھ ہوں، اور میرے شوہر مجھ کو کبھی بھی پیسہ نہیں دیتے اور نہ ہی میرے بچے کو پیدائش کے بعد جب سے میں اپنے والدین کے ساتھ گھر پر رہ رہی ہوں۔ اللہ کا شکر ہے لیکن حالات زیادہ خراب ہوگئے ہیں کیونکہ میرے شوہر نے مکمل طور پر مجھے نظر انداز کیا ۔ وہ پیسے نہیں دیں گے اور وہ اب خلع چاہتے ہیں۔ اور بہت مرتبہ طلاق لکھا صرف مجھے بھی دھمکی دینے کے لیے ۔
میری کمائی کی ساری چیزیں انہوں نے لے لی ہیں حتی کہ میرے والدین سے بھی لیا ہے۔ اور لوٹایا نہیں نیز میرا سونا لے کر فروخت کردیا۔ شوہر بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں، میرے اور میرے بیٹے کے بارے میں۔ وہ مجھے برا بھلا کہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ مر جاوٴ۔ اور کہتے ہیں کہ میں پاگل لڑکی ہوں۔
براہ کرم، مجھے مشورہ دیں کہ کیا کرنا چاہئے؟ کیا میں ان کے ساتھ مزید اپنی زندگی گذاروں یانہیں؟

Published on: Jul 8, 2018

جواب # 161415

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1185-1107/L=10/1439



طلاق یا خلع اللہ رب العزت کے نزدیک مباح چیزوں میں سب سے مبغوض وناپسندیدہ ہے ؛اس لیے اس پر اقدام حددرجہ مجبوری کے وقت ہی کرنا چاہیے ،آپ اچھی طرح غور کرلیں اگر آپ کو لگے کہ ہم دونوں میں نباہ ہوسکتا ہے تو طلاق یا خلع پر ہرگز اقدام نہ کریں بلکہ اگر کچھ مشقت کے ساتھ بھی شوہر کے ساتھ گذر ہوسکتا ہو تو اس کو بھی گوارہ کرلیں اور اس کو باعثِ ثواب سمجھیں؛البتہ اگر آپ کو یہ یقین ہوجائے کہ اب ہم دونوں میں گذر بسر ممکن نہیں اور ہم دونوں کا اللہ رب العزت کے قائم کردہ حدود پر باقی رہنا دشوار ہے تو ایسی صورت میں آپ طلاق یا خلع کے ذریعہ شوہر سے خلاصی حاصل کرسکتی ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات