A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Trying to get property of non-object

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /homepages/36/d162900626/htdocs/darulifta/system/core/Exceptions.php:186)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 689

Darul Ifta, Darul Uloom Deoband India

India

سوال # 156262

زید اپنی حیات میں اپنے پوتے بکر کے نام کچھ زمین کردی اور اس وقت بکر کاکوئی بھائی بھی پیدا نہیں ہوا تھا، اور نہ زید نے کوئی وصیت کی تھی۔ اب زید کے انتقال کے بعد پھر اور پوتے پوتیاں پیدا ہوئے تو کیا اس مال میں جو بکر کے نام کیا گیا دیگر کا بھی حصہ ہوگا جبکہ اس زمین کے علاوہ اور بھی زمین ہیں جو زید نے ترکہ میں چھوڑی ہے ۔

Published on: Dec 9, 2017

جواب # 156262

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:233-193/M=3/1439



 



زید نے اپنی حیات میں اپنے پوتے (بکر) کے نام زمین کرکے بکر کو اگر مالک وقابض بھی بنادیا تھا اور خود زید اس سے لاتعلق ہوگئے تھے تب تو بکر تنہا اس زمین کا مالک ہوگیا اور اس میں بکر کے دوسرے بھائی بہن کا حصہ نہیں، اور اگر زید نے عملی طور پر بکر کو مالک وقابض نہیں بنایا تھا صرف کاغذی طور پر نام کیا تھا اور سارا عمل دخل زید کا ہی برقرار تھا تو ایسی صورت میں نام کرنے کے باوجود وہ زمین بکر کی ملکیت نہیں ہوگی بلکہ زید ہی کی ملکیت کہلائے گی اور زید کے انتقال کے بعد وہ زمین ترکہ شمار ہوگی اس میں زید کے تمام شرعی ورثہ حسب حصص حق دار ہوں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات