Pakistan

سوال # 156115

اسلام و علیکم جناب عرض یہ ہے کہ ہم دھان کا کاروبار کرتے ہیں اور کسان ہم سے کھاد لے کر جاتے ہے تاکے جب فصل آے تو اس کھاد کی جتنی رقم بنے اس حساب سے موجودہ قیمت سے جائز قیمت کم کر کے حساب کلیر کر دیا جائے اور اس کے لیے دل کے اندر کوئ سود کا فتور شامل نا ہو تو کیا یہ کام جائز ہے۔۔
جزاک اللہ

Published on: Dec 9, 2017

جواب # 156115

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:233-191/B=2/1439



مذکورہ شکل درست نہیں ہے، آپ جس وقت کھاد کسان کو دیں اس وقت اس کا بھاوٴ متعین کرکے بتادیں اور اپنی رقم ۳/ مہینے یا چار مہینے کی مدت متعین کرکے وصول کرلیں، مطلب یہ ہے کہ کھاد کی قیمت بھی متعین ہونی چاہیے اور اس کی ادائیگی کی مدت بھی متعین ہونی چاہیے۔ اس کے بغیر خرید وفروخت کا معاملہ صحیح نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات