Saudi Arabia

سوال # 156030

حضرت مفتی صاحب! ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ زید ایک کرایہ کے گھر میں رہتا ہے جو بہت بڑا ہے اور کرایہ بھی اس کا زیادہ ہے تو وہ اپنا ایک کمرہ کرایہ پر دینا چاہتا ہے۔ علی زید سے ملتا ہے اور کمرہ کی ضرورت ظاہر کرتا ہے، زید کہتا ہے کہ میرے یہاں ایک کمرہ خالی ہے جو چار ہزار کا ہے چھ ماہ کے لیے۔ علی زید کے گھر آکر وہ کمرہ دیکھتا ہے، ا س میں زید کا کچھ سامان ہے اور باقی پرانے خریدار کے جو سامان چھوڑ کر چلے گئے، زید کہتا ہے کہ آپ کمرہ دیکھ لیں یہ کچھ پرانا سامان پرانے خریدار چھوڑ گئے تھے، آپ چاہیں تو استعمال کر سکتے ہیں، علی کہتا ہے نہیں! ہم کو کچھ نہیں چاہئے، بس آپ کمرہ صاف کروا دیجئے، اور ساتھ میں پیشگی کے طور پر پانچ ہزار زید کو دے دیتا ہے، اب علی گھر پر آکر اپنے گھر والوں کے سامنے یہ بات رکھتا ہے کہ چار ہزار پر چھ ماہ کے لیے کمرہ مل گیا۔ گھر والے کہتے ہیں ہم نے چار ہزار پورے سال کا کرایہ سمجھا تھا۔ (نوٹ: علی کو دوسرے لوگ سے پہلے یہ معلوم ہوا تھا کہ چار ہزار میں کمرہ ہے، پر مدت معلوم نہیں ہوئی تھی، اس نے معاملہ ہونے سے پہلے اپنے گھر والوں سے ذکر کر چکا تھا، چار ہزار میں کمرہ مل رہا ہے)۔ بہرحال گھر والوں کو یہ بات منظور نہ ہوئی کہ چار ہزار چھ ماہ کے لیے، اور انہوں نے معاملہ فسخ کرنے کو کہا، علی جاکر زید سے کہتا ہے کہ ہمیں مدت کو لے کر تذبذب میں پڑ گئے تھے، ہمیں آپ وہ پیشگی رقم پانچ ہزار واپس کردیں، زید راضی نہیں ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ گھر کو صاف کرانے، اور جو پچھلے کرایہ دار کے سامان تھے اس کے پانچ ہزار ہوگئے ہیں، میں ایک پیسہ واپس نہیں کروں گا۔ یا پھر دوسری شرط یہ رکھی ہے کہ آپ مزید ۳۵۰۰/ لاکر دے دیں، مجھے آپ کی پریشانی سے کوئی تعلق نہیں، آپ چاہیں تو رہیں یا نہ رہیں، مجھے ۳۵۰۰/ دیدیں۔
مفتی صاحب! آپ سے گذارش ہے کہ شریعت کے لحاظ سے بتائیں کہ زید غلط کر رہا ہے یا پھر علی نے غلطی کی۔ جزاک اللہ

Published on: Dec 9, 2017

جواب # 156030

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:176-189/N=3/1439



 صورت مسئولہ میں زید اور علی کے درمیان کمرہ کی کرایہ داری کا جو معاملہ ہوا، وہ شرعاً بالکل صحیح ودرست ہے اور ایسا معاملہ لازم ہوتا ہے اور علی کو کوئی ایسا عذر شرعی لاحق نہیں ہوا کہ زید پر اس عذر کی وجہ سے کرایہ داری کا معاملہ فسخ کرنا ضروری ہو ؛ کیوں کہ صاحب معاملہ علی ہے نہ کہ اس کے اہل خانہ اور علی سے کرایہ کی مقدار اور کرایہ داری کی مدت واضح طور پر طے کرلی گئی ہے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں علی پر ضروری ہے کہ وہ کرایہ داری کے معاملہ پر برقرار رہتے کرایہ داری کی مدت مکمل کرے ؛ البتہ اگر زیدصورت مسئولہ میں علی کی درخواست پر اپنی مرضی وخوشی سے کرایہ داری کا معاملہ فسخ کردے تو یہ زید کا علی پر احسان ہوگا اور اس صورت میں زید پر ضروری ہوگا کہ علی کاجمع کردہ سارا پیسہ اسے واپس کرے ، زید کے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ کمرہ کی صفائی کے نام پر یا پرانے کرایہ دار کے سامان کے عوض کے نام پر علی کی جمع کردہ رقم میں کچھ کٹوتی کرے ؛ کیوں کہ کرایہ دار کا سامان زید کی ملک نہیں تھا، نیز وہ علی کو نہیں ملا اور صفائی کا نفع بھی علی کو حاصل نہیں ہوگا، وہ جو کچھ ملے گا، زید کو ملے گا: البتہ اگر علی خود اپنی مرضی سے بہ طور تبرع صفائی کے عوض کچھ دیدے تو اس میں کچھ حرج نہیں؛ بلکہ اسے ایسا کرنا چاہیے ؛ تاکہ اس کی جانب سے بھی زید پر کچھ احسان ہوجائے۔



وأما صفتھا- صفة الإجارة- فھي عقد لازم إذا کانت صحیحة عاریة عن خیار الشرط والعیب والروٴیة عند عامة العلماء ھکذا فی البدائع (الفتاوی الھندیة، کتاب الإجارة، الباب الأول،۴: ۴۱۱، ۴۱۲، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، وفی الوھبانیة: تصح إجارة الدار المشغولة یعنی: ویوٴمر بالتفریغ وابتداء المدة من حین تسلیمھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الإجارة، باب ما یجوز من الإجارة وما یکون خلافاً فیھا، ۹: ۴۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، حرر محشی الأشباہ أن الراجح صحة إجارة المشغول ویوٴمر بالتفریغ والتسلیم مالم یکن فیہ ضرر فلہ الفسخ (المصدر السابق، کتاب الإجارة، مسائل شتی ، ۹: ۱۲۹)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات