A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Trying to get property of non-object

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /homepages/36/d162900626/htdocs/darulifta/system/core/Exceptions.php:186)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 689

Darul Ifta, Darul Uloom Deoband India

india

سوال # 155450

کیفیت : ایک خاندان ہے جس میں ایک ماں اور چار لڑکے اور ایک لڑکی ہے ۔ سن 2000 میں والد کا انتقال ہوگیا تھا ۔والد صاحب سرکاری ملازم تھے ۔اس وقت 2 بڑے لڑکے مدرسے میں تھے ۔بڑے لڑکے کا عالمیت مکمّل ہو چکا تھا ۔اور دوسرے نمبر کے لڑکے کی تعلیم جاری تھی ۔ اور باقی کے تین بچوں کی عصری تعلیم جاری تھی ۔ والدہ نے یہ سوچ کر کہ بڑا لڑکا علم والا ہے ،اور گھر کا بڑا بھی ہے ، اور امام بھی ہے ، بڑے لڑکے کو والد کی جگہ ملازمت کی اجازت دے دی ،لیکن اس بات کا قرار نہیں کیا کے تو والد کی جگہ پر لگا ہے اس لیے تجھے گھر میں خرچ دینا ہوگا ۔ کچھ سال بعد تین بھائیو ں کی اور بہن کی شادی ہو جاتی ہے ۔اور تیسرا لڑکا اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کانٹرکٹ پر ملازمت کرتا ہے ۔حالانکہ اس کے پاس قابلیت بڑے بھائی کی بنسبت زیادہ ہے ۔لیکن بڑا بھائی والد کی جگہ لگنے پرمستقل ہے اور تنخواہ میں بھی زیادہ ہے ۔کچھ سال بعد تینوں بھائیوں کو اولاد ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد بڑا لڑکا جو گھر خرچ دیا کرتا تھا اس میں کمی کر دیتا ہے ۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ گھر میں، یہ کہہ کر کے مجھ پر اب میری اولاد اور بیوی کی زمہ داری ہے لہذا وہ والدہ کو پیسے دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔والدہ اس سے یہ کہہ کر کے تو اپنی زاتی صلاحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تو اپنے والد کی جگہ ملازمت کرتا ہے حالانکہ تجھ سے زیادہ صلاحیت چھوٹے بھائی میں ہے لیکن وہ مستقل ملازم نہیں ہے ، لہٰذا تجھے سب سے چھوٹے لڑکے کی شادی تک کہ خرچہ دینا ہوگا ۔ سوال :ماں کا بڑے لڑکے سے خرچ کے بارے میں سوال کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

Published on: Dec 9, 2017

جواب # 155450

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:134-108/H=3/1439



بڑا لڑکا اپنی ملازمت پر کارہائے مفوضہ انجام دے کر جو تنخواہ حاصل کرتا ہے اس کا مالک وہ خود ہی ہے والدہ یا بھائی بہن کا اس میں مالکانہ کچھ حق وحصہ نہیں پس صورت مسئولہ میں والدہ کا مطالبہ درست نہیں، البتہ بڑا بیٹا اپنے خرچہ میں سے کچھ تنگی ترشی برداشت کرکے بچاکر والدہ کی مالی خدمت کرتا رہے تو اس کے حق میں موجب سعات اور دنیا وآخرت میں خیر اور برکات کا سبب ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات