عقائد و ایمانیات - فرق باطلہ

india

سوال # 149695

عرض مسنون یہ ہے کہ میں ایک مسجد میں نماز پڑھاتا ہوں اور میری مسجد میں کچھ لوگ درس قرآن دینے کے لیے آتے ہیں جب کہ وہ عالم بھی نہیں ہے اور ڈاڑھی بھی منڈواتے ہیں، لہذا شریعت اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے کیا وہ بیان کر سکتے ہیں یا نہیں؟ مہربانی کرکے حوالہ کے ساتھ جواب دے کر مشکور فرمائیں ۔

Published on: Apr 25, 2017

جواب # 149695

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 861-776/sn=7/1438

قرآنِ مقدس کا درس دینا اور اس کی تفسیر کرنا عالم باعمل کا منصب ہے، جو شخص عالم نہ ہو نیز وہ فسق وفجور (مثلاً ڈاڑھی منڈوانے) میں بھی مبتلا ہو وہ درسِ قرآن اور تفسیرِ قرآن کے منصب کے لائق نہیں ہے، ایسے لوگوں کے درس سے ہدایت کے بجائے گمراہی پھیلنے کا زیادہ اندیشہ ہے؛ اس لیے مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ کسی باعمل عالم دین کو یہ منصب سپرد کرے اور وہ عالم دین معتبر تفاسیر مثلاً روح المعانی، بیان القرآن اور معارف القرآن کی روشنی میں درسِ قرآن دیا کریں۔ قال الإمام أبو طالب الطبریّ في أوائل تفسیرہ، القول في أدوات المُفسِّر: اعلم أن من شرطہ صحة الاعتقاد ولزوم سنة الدین فإن من کان مغموضًا علیہ في دینہ لا یوٴتمن علی الدنیا فکیف علی الدین ثم لا یوٴتمن من الدین علی الإخبار عن عالم فکیف یوٴتمن في الإخبار عن أسرار اللہ تعالی الخ (الإتقان في علوم القرآن: ۴/۲۰۰، ط: مصر)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات