India

سوال # 67760

بڑے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہمارے ایک قاری صاحب کبھی کبھی غصہ ، طیش، جھلاہٹ میں تمام بچوں کو جن کی عمریں ۱۳ سے ۱۹ سال کے درمیان ہیں ان کی بہت ہی بری طرح سے پٹائی کرتے ہیں جب بچے نظم و ضبط کو برقرار نہیں رکھ پاتے ہیں یا قرآن یاد نہیں کر پاتے ہیں۔ نیز وہ ان بچوں کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ کسی کی نہیں سنتے ہیں، اور دعوی کرتے ہیں کہ کوئی ان بچوں کوان سے بچانے والا نہیں ہے۔ کبھی مار کھانے والے بچے مدرسہ سے باہر بھاگ جاتے ہیں ، والدین کہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں اور پولیس ان کو واپس لاتی ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ اس طرح کے عمل کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ براہ کرم رہنمائی کریں۔ اللہ مجھ کو اور ہر ایک کو معاف کرے۔ آمین

Published on: Jun 26, 2016

جواب # 67760

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 849-820/SN=9/1437

بچے اگر شرارت کریں اور پڑھنے کی طرف دھیان نہ دیں تو والد کی اجازت سے استاذ کو ہلکی پھلکی پٹائی کرنے کی گنجائش ہے؛ لیکن شرط یہ ہے کہ چہرہ پر یا بدن کے نازک مقامات پر نہ ماریں، نیز مقصد اصلاح ہو غصہ اتارنا یا انتقام لینا نہ ہو، بچوں کی بہت زیادہ پٹائی کرنا یا چہرہ یا نازک مقامات پر مارنا شرعا جائز نہیں ہے۔ دیکھیں: درمختار مع الشامی (۶/۱۳۰، باب التعزیر) اسی طرح اگر کوئی طالب علم کند ذہن ہونے کی وجہ سے محنت کے باوجود سبق یاد نہیں کر پاتا تو اس کی پٹائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ اس زمانہ میں بہتر یہ ہے کہ بچوں کو مارنے سے مکمل احتیاط کیا جائے، اگر کوئی بچہ بہت زیادہ شرارت کرے یا اسباق یاد کرنے میں کوتاہی کرے تو والدین کو بلاکر انہیں حقیقتِ حال بتلا دیا جائے، اگر وہ مناسب سمجھیں تو سزا دیں، صورتِ مسئولہ میں قاری صاحب کا طریقہ صحیح نہیں ہے، انہیں انتظامیہ کی طرف سے نوٹس دے کر متنبہ کیا جائے اور حکمِ شرعی سے واقف کرایاجائے؛ تاکہ آئندہ وہ ایسا نہ کریں۔ (امداد الاحکام ۴/۱۳۳، کراچی، چند اہم عصری مسائل ۱/۳۸۱) ۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات