India

سوال # 61045

آپ سے یہ سوال کرنا ھے کہ ایک غیر مسلم نے اپنے بچّوں کے ساتھ ایمان قبول کیا پھر اس عورت نے ایک مسلمان مرد سے نکاح کر لیا اس شرط پر کی وہ بچّوں کی بھی کفالت کرے گا اب اسکول اور کالج میں وہ بچّے داخلہ لے رھے ھیں اور اپنے پہلے ( غیر مسلم ) باپ کا نام فالکھنے کی وجہ سے اسکول کے ماسٹر ان بچّو ں کو اپنے ھندو مذہب میں واپس لوٹنے پر مجبور کر رھے ھیں اور جو اسکول کے ھندو اور مسلم بچّے طعنہ دیتے ھیں تو اس صورت میں کیا
(۱) یہ بچّے اپنے مُسلم باپ کا جو حقیقی نہیں ہے فارم میں اس مُسلم باپ کا نام لکھ سکتے ہیں یا نہیں؟اور
(۲) یہ باپ ان بچوں کو حج و عمرہ میں لے جا سکتا ہے یا نہیں اور
(۳) بچیوں کا عقیقہ کرانا ہے تو کس باپ کا نام استعمال کیا جاے گا ؟غیر مُسلم باپ کا یا مُسلم باپ کا ؟اگر مُسلم باپ کا نام استعمال کیا جاے تو کیا گناہ ہوگا؟

Published on: Sep 22, 2015

جواب # 61045

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 857-822/Sn=12/1436-U

(۱) غیرباپ کی طرف نسبت کرنے کے سلسلے میں حدیث میں سخت وعید آئی ہے؛ اس لیے بچوں کی ولدیت میں سوتیلے باپ کا نام نہ ڈالیں، ہندو باپ کا نام ڈالنا اگر خلافِ مصلحت ہو یا بچوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے کا اندیشہ ہو تو ولدیت میں باپ کی جگہ ماں ”ماں“ کا نام لکھیں، قابل اعتماد ذریعے سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہندوستانی قانون میں اس کی گنجائش ہے کہ ولدیت میں باپ کی بہ جائے ”ماں“ کا نام ڈالا جائے، بہتر ہے کہ آپ مقامی کسی ماہر قانون داں سے اس سلسلے میں مشورہ کرلیں۔
(۲) جی ہاں! لے جاسکتا ہے۔
(۳) غیرمسلم باپ کا نام استعمال کریں گے، تب بھی عقیقہ صحیح ہوجائے گا، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے؛ باقی اگر سرے سے باپ کا نام ہی ذکر نہ کریں تب بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ اس لیے کہ عقیقے میں بچے کے باپ کا نام لینا ضروری نہیں ہے اور صورتِ مسئولہ میں یہی بہتر ہے کہ صرف بچے کا نام لے کر عقیقہ کردیا جائے، باپ کا نام ذکر ہی نہ کیا جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات