India

سوال # 57297

میں انڈیا کی رہنے والی ہوں۔ میں نے MCAکررکھا ہے۔ میں ایک معزز گھرانہ سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے والدین نے بتایا کہ انھوں نے میرے لیے ایک لڑکا تلاش کیا ہے جس نے ہم کو بتایا کہ وہ میکینکل انجینئر ہے اور میں نے فروری 2014میں شادی کی۔ میں ابتدائی چند دنوں میں اس کے ساتھ خوش تھی ۔ لیکن چند دنوں کے بعد اس نے مجھے پریشان کرنا شروع کردیا۔ وہ ذہنی طور پر تھوڑا بیمار تھا۔ وہ عام طور پر مجھ کو بلا وجہ مارتا تھا اور وہ ہمیشہ مجھ سے کہا کرتا تھا کہ وہ مجھ کومعمولی وجہ سے طلاق دے دے گا۔ میں اس کے ساتھ رہنے کی کوشش کررہی تھی کیوں کہ میرے والدین نے بہت مشکل سے میری شادی کی تھی۔ اس کی ماں بھی مجھ کو پریشان کررہی ہے۔ اس کے بعد میں حاملہ ہوگئی ایک ماہ میں۔ میں نہیں جانتی تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہوجائے گا۔ لیکن میرا شوہر میرے حاملہ ہونے سے بہت خوش تھا کیوں کہ اس کا منصوبہ تھا کہ اگر بچہ ہوجاتا ہے تو میں اس کو کبھی چھوڑ کر نہیں جاوٴں گی۔ نیز اس کا یہ بھی ماننا تھا کہ اگر میرے لڑکا ہوجاتا ہے تو میں اس سے صحیح طرح سے برتاوٴ کروں گی۔ اس لیے میں سوچ رہی تھی کہ اگر میرے بچہ ہوجاتاہے تو وہ صحیح ہوجائے گا۔ اس کے بعد میں گھر آئی اور سب کچھ اپنے والدین کو بتایا اس کے بعد انھوں نے اس نے جو کچھ میرے ساتھ کیا تھا اس کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے ان کے ساتھ لڑائی کی اور چلا گیا اور ڈلیوری تک مجھ سے بات نہیں کی اس نے میری دیکھ بھال نہیں کی۔
اس کے بعد میرے یہاں دو جڑواں لڑکیاں پیدا ہوئیں میرے والد نے اس کو اطلاع دی اور وہ آیا اور بچوں کودیکھ کر خوش تھا۔ اس کے بعد چلا گیا۔ میں بھی خوش تھی کہ اس میں تبدیلی آگئی ہے۔ لیکن وہ پہلے جیسا ہی تھا اس میں تبدیلی نہیں آئی تھی یہاں تک کہ پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگیا۔ اب اس نے مجھ کواور میرے والدین کو گالی دینابھی شروع کردیا۔وہ میرے والدین کے لیے بہت برے الفاظ استعمال کررہا تھا کہ میں اس کو برداشت نہیں کرسکی۔ اب میں سمجھی کہ وہ جھوٹا ہے اور اب ہم کو معلوم ہوا کہ وہ دھوکے باز بھی ہے۔ اس نے کہا کہ اس نے انجینئرنگ کی ہے لیکن وہ ایک PUہولڈر ہے۔ ان تمام کو سن کر میرے والدین پریشان ہوگئے اور یہ فیصلہ کیا کہ اب اس کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہے۔ لیکن بچوں کا کیا ہوگا۔ میرے والدین اتنے مالدار نہیں ہیں کہ وہ دونوں بچوں کی دیکھ بھال کرلیں۔ میں بھی ان دونوں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی۔ میں کیا کروں؟ میں کیا کرسکتی ہوں؟ براہ کرم جلد مشورہ دیں۔

Published on: Jan 10, 2015

جواب # 57297

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 176-175/H=3/1436-U

آپ کے حق میں بہتر صورت یہ ہے کہ علیحدگی کا فیصلہ لینے میں جلدی نہ کریں دو تین با اثر معاملہ فہم سنجیدہ مزاج حضرات کو بیچ میں ڈال کر مصالحت اور نباہ کی کوئی مناسب شکل اختیار کرنے میں وہ حضرات کوشش کریں گے، جیسا کچھ وہ حضرات طے کرادیں اس کے مطابق آئندہ عمل کریں، ان شاء اللہ آپ کے بچوں نیز آپ کے والدین کے حق میں نباہ کی یہ صورت ہرطرح بہتر ہوگی۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات