INDIA

سوال # 167869

سوال: میرا دو سال کا پہلا بیٹا ہے ۔ اس نے اپنی ماں کا دودھ کبھی نہیں پیا۔ اب میری بیٹی پیدا ہوی ہے جو ماں کا دودھ پیتی ہے ۔
۱۔ کیا اب پہلے بیٹے کو بھی ماں دودھ پلا سکتی؟
۲۔ یا اب یہ دودھ صرف بیٹی کا ہی حق ہے ؟
۳۔ بیٹے اور بیٹی کو کتنی عمر تک ماں کا دودھ پلایا جا سکتا ھے ؟
۴۔بیٹی ماں کے سینہ کو منہ نہیں لگاتی، کیا دودھ پمپ( breast pump)سے نکال کر پلایا جا سکتا ہے ؟

Published on: Jan 13, 2019

جواب # 167869

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 486-437/M=05/1440



(۱، ۲) جب بیٹا دو سال کا ہوگیا ہے تو اب اس کو ماں کا دودھ پلانا درست نہیں، جو بیٹی اب پیدا ہوئی ہے اس کو ماں کا دودھ پلاسکتے ہیں۔



(۳) مدت رضاعت (دودھ پلانے کی مدت) مفتی بہ قول کے مطابق دو سال تک ہے چاہے بیٹا ہو یا بیٹی، دوسال کی عمر ہو جانے کے بعد بچے کو ماں کا دودھ نہیں پلانا چاہئے۔



(۴) ایسی صورت میں دودھ پمپ سے نکال کر پلانے میں حرج نہیں ۔ وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَةَ الآیة (البقرة) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات