India

سوال # 163663

حضرت، ہماری شادی کو دس سال ہوگئے ہیں اور کوئی بچہ نہیں ہے، میں نے تقریباً چار سال پہلے اپنی چھوٹی بہن کی ایک بچی گود لے لیا تھا، جس کو ہم لگاتار پال رہے ہیں اور اس کی اچھی پرورش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے ہر طرح کے کاغذات میں بہن کا ہی نام ڈلوایا ہے۔ میرے بہن بہنوئی سعودیہ عربیہ میں رہتے ہیں، پچھلے سال کچھ مجبوریوں کی وجہ سے اپنے بہنوئی سے اس بچے کو نہیں ملا پائے، اس سال بھی بیوی کا آپریشن ہونے کی وجہ سے ان سے ملوانا مشکل ہو رہا تھا لیکن تب بھی ملوا دیا ۔ ان سب باتوں کی وجہ سے بہنوئی سے اختلافات پیدا ہوئے جس کی وجہ سے بہنوئی نے کہا کہ ہماری بچی ہمیں واپس کردیجئے۔ اب میں آپ سے شریعت کی روشنی میں کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔
(۱) میرا اور میری بیوی کا اس بچی پر کتنا حق ہے؟
(۲) کیا اب میرے بہنوئی اس بچی کو ایک دم سے مجھ سے لے سکتے ہیں؟ اور یہ کتنا صحیح ہے؟
(۳) تحریری طور پر اس بچی کی گارجین شپ (سرپرستی) دینا چاہئے کہ نہیں؟
براہ کرم، ان سوالوں کا واضح جواب دینے کی مہربانی کریں، جس سے اس اختلافات کو دور کیا جاسکے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔

Published on: Oct 14, 2018

جواب # 163663

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1358-1406/H=1/1440



آپ نے اپنی چھوٹی بہن کی بچی کو گود لیا، پالا پوسا، تربیت کی، اس کی وجہ سے ان شاء اللہ آپ اجرو ثواب کے مستحق ہوں گے، لیکن اس کی وجہ سے بچی پر آپ کا شرعاً کوئی حق واجب (نسب ، وراثت ، حق ولایت نکاح وغیرہ) ثابت نہیں ہوا، لہٰذا آپ کے بہنوئی جب بھی آپ سے اس بچی کو لینا چاہیں لے سکتے ہیں، آپ کو روکنے کا حق نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات