Pakistan

سوال # 159647

سوال: ایک مشاہدہ کی بات ہے اور بزرگوں سے بھی سنا ہے کہ بچے تقریباً دس سے بارہ سال کی عمر تک (میرے اندازہ کے مطابق) اپنے ماں باپ کو بطور نمونہ سمجھتے ہوئے انُ کے طریقے پر عمل کرتے ہیں اس حوالہ سے ایک سوال ہے کہ کیا ماں باپ اپنے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی اور توجہ بڑھانے کے لیئے اُن سے اس طرح کے جھوٹ بول سکتے ہیں کہ ہم جب اسکول میں تھے تو اسکول کا کام وقت پر کر لیا کرتے تھے یا اپنی جماعت میں اوّل آتے تھے ، وغیرہ؟

Published on: Mar 30, 2018

جواب # 159647

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:687-583/D=7/1439



بچوں کی تربیت کی غرض سے بھی اس جھوٹ بولنا جائز نہیں جھوٹ کی ظلمت بھی تربیت کو داغ دار کرے گی اور خود جھوٹ بولنے کا گناہ الگ ہو، جائز طریقے اختیار کیے جائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات