India

سوال # 155510

سوال یہ ہے کہ کیا ایسے اسکول جس میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی نصاب میں داخل ہو، اور جس ادارہ کا مقصد ہی احیاء دین ہو) کا ذمہ دار کسی بے دین اور غیر شرع لوگوں کو بنایا جا سکتا ہے ؟ جبکہ دین دار علماء بھی وہاں موجود ہوں۔ خیرا۔

Published on: Dec 23, 2017

جواب # 155510

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:77-249/sn=4/1439



جو ادارہ شخصی نہ ہو؛ بلکہ عام مسلمان اس کو چلاتے ہوں اور وہی (یا ان کا نمائندہ کمیٹی) اس کے ذمے دار کا بھی انتخاب کرتے ہوں تو انھیں (عام مسلمان یا ان کی نمائندہ کمیٹی کو) چاہیے کہ ادارے کی دیکھ بھال وغیرہ کے لیے ایسے ذمے دار کا انتخاب کریں جو منتظم اور امانت دار ہونے کے ساتھ مشرع اور دین دار بھی ہو، دین دار لائق افراد کی موجودگی میں غیر دین دار اور فسق وفجور میں مبتلا شخص کو ایسے ادارے کا ذمے دار بنانا مناسب نہیں ہے بالخصوص جب اس ادارے میں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا بھی نظم ہو۔ اگر وہ ادارہ موقوفہ ہو تو پھر اس کا ذمے دار (متولی) فسق میں مبتلا غیر مشرع آدمی کو بنانا جائز ہی نہیں ہے۔



---------------------



جواب صحیح ہے، البتہ مزید یہ عرض ہے کہ جو ادارہ شخصی ہو اور اس میں عصری تعلیم کے ساتھ ضمنی طور پر دینی تعلیم بھی ہو تو ادارہ کے مسلمان ذمہ دار کو باشرع ہونا چاہیے اگرچہ غیر باشرع شخص بھی ایسا ادارہ قائم کرسکتا ہے۔ (د)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات