Saudi Arabia

سوال # 154625

مفتی صاحب! عرض یہ کرنا ہے کہ والدین کو اولاد کے اوپر کس عمر تک ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری والدہ بڑی سخت مزاج کی ہیں، وہ ذرا سی بات پر غصہ میں آجاتی ہیں اور مارنا شروع کر دیتی ہیں، وہ اکثر چہرے پر مارتی ہیں۔ واضح رہے ہ میری عمر ۲۵/ سال کی ہو گئی ہے، کیا والدہ کا اس عمر میں اپنی اولاد کو مارنا شرعاً درست ہے؟

Published on: Sep 27, 2017

جواب # 154625

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1570-1438/B=1/1439



جب اولاد میں عقل و شعور آجائے یعنی وہ بالغ ہو جائے تو پھر اس پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے۔ اسے زبانی سمجھا دینا چاہئے۔ ماں کو ۴۰/ مرتبہ وَالکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ پڑھ کر ایک بوتل پانی میں دَم کریں اور وہ پانی والدہ محترمہ کو ۴۰/ دن تک پلاتے رہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات