Spain

سوال # 154156

ہم سپین میں رہتے ہیں اور ہماری مسجد اور بچوں کا مدرسہ ایک ہی مکان میں ہیں، یعنی پہلی منزل پر مسجد ہے اور دوسری منزل پر مدرسہ ہے جہاں بچے عربی پڑھتے ہیں۔ میرا سوال بچوں کی کلاس کے ٹائم ٹیبل کے بارے ہے ، کیا ہمیں نماز کے وقت کا خیال رکھنا چاہیے ؟ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ بچے نماز کے وقت سے پہلے نکل جائیں کیوں کہ بہت شور کرتے ہیں، لیکن سردیوں میں جب ظہر اور عصر میں وقت قلیل ہوتا ہے تو اس حال میں کیا کرنا چاہیے ؟ نا بالغ بچے جن پر نماز فرض نہیں، اپنی کلاس جاری رکھے نماز کے دوران یا نماز پڑھنے آئیں؟اور بالغ بچوں کا کیا حکم ہے ؟جماعت ترک کر سکتے ہیں؟ اور معلمین کا کیا حکم ہے ؟ وہ بھی نماز کے دوران کلاس جاری رکھ سکتے ہیں؟ کیوں کہ بچوں کو اکیلے تو نہیں چھوڑ سکتے ۔

Published on: Sep 21, 2017

جواب # 154156

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1367-1340/M=12/1438



نماز کے اوقات کا خیال رکھتے ہوئے مدرسہ کا ٹائم ٹیبل مقرر کرنا چاہیے تاکہ نماز اپنے وقت پر سکون کے ساتھ ادا کی جاسکے، بالغین کے لیے ترک جماعت درست نہیں، نابالغ بچوں پر نماز فرض نہیں لیکن سات سال کے بعد ان کو بھی نماز پڑھنے اور سیکھنے کی ہدایت کرنی چاہیے اور ان کو مدرسہ میں یا گھر میں تربیت دینی چاہیے، بہت چھوٹی عمر کے بچوں کو تو مسجد میں لانے سے بچنا چاہیے سردیوں میں تعلیم کا وقت دو مرحلے میں رکھا جاسکتا ہے ایک صبح سے ظہر تک پھر ظہر کی نماز اور کھانے وغیرہ کے لیے ایک گھنٹے کا وقفہ پھر دوبارہ ظہر کے بعد سے عصر سے پہلے تک۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات