New Zealand

سوال # 153946

کس حد تک استاد طالب علم مار سکتے ہیں؟یا والد بچہ کو اور مرد عورت کو؟

Published on: Sep 21, 2017

جواب # 153946

بسم الله الرحمن الرحيم




Fatwa: 1341-1261/B=12/1438



محض تنبیہ کے لیے پیٹھ پر ہاتھ سے ایک آدھ مرتبہ ماردے تو یہاں تک گنجائش ہے، چہرہ پر ، سرپر مارنے سے احتیاط کرے، ایسی مار جس سے بدھی اچھل آئے یا خون نکل آئے قطعاً جائز نہیں۔ تادیب جبری سے تعلیم میں استاد کامیاب نہیں ہوتا، ہاں اگر پڑھنے والوں کی نفسیات سے واقف کار ہوجائے اور پھر پڑھائے تو وہ تعلیم بہت نتیجہ خیز اور بارآور ہوتی ہے۔ اپنا رعب قائم رکھے اور نفسیات کا ماہر ہو تو وہی پڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح باپ کا بچہ کے ساتھ اور مرد کا عورت کے ساتھ معاملہ ہونا چاہیے۔ کسی کو تکلیف دہ مار نہ مارنی چاہیے۔ اپنا رعب باقی رکھے تو صرف ڈانٹ دینا کافی ہوگا۔





 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات