Pakistan

سوال # 152890

کیا والدین سے ان کی بالغ اولاد کے اعمال کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا؟ اور کیا ۱۸/ سال سے اوپر کی اولاد پر سختی کرنا ٹھیک ہے؟ جب کہ اس سے اولاد کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

Published on: Jul 31, 2017

جواب # 152890

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1059-874/D=11/1438



سختی کرنا بالخصوص موجودہ زمانہ میں جب کہ انقیاد واتباع کا عنصر بہت کم ہوتا جارہا ہے مناسب نہیں۔ اولاد کے بالغ ہونے کے بعد اپنے اعمال کی ذمہ دار وہ خود ہوگی، والدین سے اس کے بارے میں باز پرس نہ ہوگی، البتہ بچپن میں تربیت وتعلیم میں کمی کی ہو اور اب اس کا تدارک کرنا چاہتے ہوں تو نرمی اور ہمدردی سے متوجہ کردیا جائے، بلکہ علماء نے یہاں تک ہدایت دی ہے کہ بڑے بچے کو والدین کوئی کام حکم کے انداز پر نہ کہیں کیونکہ اگر بچوں نے ٹال دیا یا لاپروائی کی تو ہوسکتا ہے کہ نافرمانی کا گناہ اور وبال ان پر ہوجائے بلکہ اس طرح کہیں ”میں ایسا چاہتا ہوں ایسا ہوجائے تو بہت اچھا ہے“ وغیرہ سعادت مند بچہ والدین کی پسندیدگی جان کر اسے انجام دیدے گا اور اگر ٹال دیا تو نافرمانی کا گناہ نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات