India

سوال # 151928

میری بہن رینا خاتون بنت مرحوم فخرالدین کا نکاح رشتے میں انوار الحق سے بتاریخ 24 مئی 2014 کو ہوا تھا ۔ کسی وجہ سے انوار الحق نے اپنی بیوی رینا خاتون کو طلاق دے دی تھی۔ طلاق کے وقت رینا خاتون کی ایک لڑکی تھی جس کی عمر تقریبا ۳ /ماہ تھی۔ طلاق کے بعد انوار الحق نے دوسرا نکاح کر لیا جس سے اس کے ایک لڑکی ہے ۔ انوار الحق اپنی بیٹی جو کہ رینا خاتون سے ہے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے لیکن رینا خاتون بیٹی نہیں دینا چاہتی ہے ۔ اس وقت بچی کی عمر 26 ماہ ہے اور اس کی پرورش رینا خاتون اور اس کے گھر والے کر رہے ہیں اور اس میں انوار الحق نے کوئی بھی مالی امداد نہیں کی ہے ۔ انوار الحق نے مہر کی رقم 1 لاکھ پچھتر ہزار ادا کر دیئے ہیں۔
محترم جناب میں جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت کے مطابق کوئی طلاق شدہ عورت اپنے بچے کو کتنے وقت تک رکھ سکتی ہے ؟ جبکہ بچے کے باپ نے دوسرا نکاح کر لیا ہے اور اس سے بھی ایک بچی ہے ۔ طلاق کے بعد عورت کے اس کے بچے کے کیاکیا حقوق ہیں؟ اب چونکہ رینا نے خاتون دوسری شادی نہیں کی ہے ۔تو کیا ان حالات میں یچی کو ماں کی تا زندگی سرپرستی مل سکتی ہے ؟

Published on: Jul 9, 2017

جواب # 151928

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 851-691/D=10/1438



بچی کے پرورش کا حق ماں کو ۹/ سال کی عمر تک ہے، لہٰذا باپ انوار الحق کا اس وقت بچی کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، ۹/ سال کی عمر تک بچی ماں کے پاس رہے اور خرچ کی ذمہ داری باپ انوار الحق کے اوپر ہوگی۔



البتہ نو سال کے بعد باپ کو حق ہوگا کہ لڑکی کو اپنے پاس رکھے اور اس کی تعلیم وتربیت اور شادی بیاہ کا نظم کرے۔



 قال في الدر: والأم والجدة أحق بہا أي بالصغیرة حتی أي تبلغ ․․․ وغیرہما أحق بہا حتی تشتہي وقدر بتسع وبہ یفتی․․․ وعن محمد أن الحکم في الأم والجدة کذالک وبہ یفتی لکثرة الفساد․ (الدر مع الرد: ۲/۶۹۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات