india

سوال # 146852

غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ۔ حدیث مبارکہ:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر پانچ رکعت نماز پڑھی:(بخاری 1226) حنفی کہتے ہیں کہ جو 5 رکعت پڑھے گا اسکی نماز باطل ہے :(ھدایة:ج1،ص166 سطر6 مکتبہ رحمانیہ)۔برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔

Published on: Feb 6, 2017

جواب # 146852

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 307-428/L=5/1438



سوال میں ہدایہ کے جس مسئلہ کا ذکر ہے اس کی دو صورتیں ہیں، پہلی صورت یہ ہے کہ رباعی نماز میں پانچ رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ چوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا اور پانچویں رکعت کے لیے سہواً کھڑا ہوگیا اور پانچویں رکعت کے لیے سجدہ بھی کرلیا، دوسری صورت یہ ہے کہ رُباعی نماز میں قعدہ اخیرہ کرکے پانچویں رکعت کے لیے سہوا کھڑا ہوگیا، پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ جیسے ہی وہ شخص پانچویں رکعت کا سجدہ کرے گا اس کا فرض باطل ہوجائے گا اور یہ نماز نفل بن جائے گی، لہٰذا چھٹی رکعت ملاکر نماز پوری کردے، دوسری صورت میں اس کا فرض باطل نہیں ہوگا، اگر اس کو یاد آجائے تو پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے پہلے دوبارہ قعدہ کی طرف لوٹ جائے اور سجدہٴ سہو کرکے سلام پھیردے اور اگر سجدہ کرنے کے بعد یاد آئے تو ایک رکعت اور ملاکر سجدہٴ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرلے۔ سوال میں جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے: عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی الظہر خمسا، فقیل لہ: أزید فی الصلاة؟ فقال: وما ذاک؟ قال: صلیت خمسا، فسجد سجدتین بعد ما سلم(بخاری شریف رقم الحدیث: ۱۲۲۶) ”یعنی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھادیں، سلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کیا نماز میں زیادتی ہوگئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا صحابی نے عرض کیا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھادیں، پس آپ علیہ السلام نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے“۔ مذکورہ حدیث احناف کے خلاف نہیں ہے؛ اس لیے کہ اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے قعدہ اخیرہ کیا تھا یا نہیں؟ حدیث اس سے ساکت ہے اور ظاہر یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے چار رکعت کے بعد قعدہ کیا تھا جیسا کہ راوی کے الفاظ ”صلی الظہر خمسا“ اس بات پر دلالت کررہے ہیں؛ کیونکہ ظہر کی نماز کا مطلب یہ ہے کہ تمام ارکان کی ادائیگی کے ساتھ پانچ رکعت پڑھیں اور ان ارکان میں ایک رکن قعدہ اخیرہ بھی ہے؛ البتہ آپ کو چار رکعت کے قعدہ پر سہو ہوا اور آپ نے یہ سمجھا کہ یہ دوسری رکعت کا قعدہ ہے؛ اس لیے آپ اپنے خیال کے مطابق مابقیہ رکعتوں کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، وتأویل الحدیث أنہ - علیہ الصلاة والسلام - کان قعد قدر التشہد فی الرابعة بدلیل قول الراوی صلی الظہر خمسا والظہر اسم لجمیع أرکان الصلاة ومنہا القعدة، وإنما قام إلی الخامسة علی ظن أنہا الثالثة حملا لفعلہ - علیہ الصلاة والسلام - علی ما ہو أقرب إلی الصواب․ (العنایة: ۱/ ۵۱۰) وقال العیني والظاھر من حال النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- أنہ قعد علی الرابعة؛ لأن حمل فعلہ علی الصواب أحسن من حملہ علی غیرہ وہو اللائق بحالہ علی أن المذکور فیہ ”صلی الظہر خمسًا“ والظہر اسم للصلاة المعہودة في وقتہا بجمیع أرکانہا․ (فتح الملہم: ۴/ ۱۳۶)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات