Saudi Arabia

سوال # 146260

(۱) زید کی شادی کو ۶/ سال ہو گئے، اور اس کا ایک بیٹا بھی ہے، شادی کے بعد سے ہی اب تک اس کی بیوی اور اس کے گھر والے بھائی بہن سب باربار شوہر زید کو ٹارچر (ذہنی طور پر پریشان کرنا) کرتے رہے کہ میری بہن کا فیصلہ کر دیجئے، کیونکہ میری بہن آپ کے گھر سُکھ اور سکون سے نہیں رہ رہی ہے، آپ کی ماں آپ کا بھائی آپ کی بہن سب مل کر میری بہن کو ٹارچر کرتے ہیں، اور میری بہن آپ کے گھر میں ایک زندہ لاش بن کر رہ گئی ہے جب کہ اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے، یہ اللہ اور سارے لوگ جانتے ہیں، اور زید کی بیوی بھی اپنے شوہر کو یہ بات بار بار کہتی رہتی تھی، اس لیے میرا فیصلہ کر دیجئے، زید نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کی بہن میرے گھر میں خوش نہیں ہے تو آپ کو اور میری بیوی کو حق ہے کہ وہ خود فیصلہ لے لے، خلع کے ذریعہ، میں طلاق نہیں دوں گا، میں ایسا غلط لفظ اپنی زبان سے نہیں نکالوں گا، لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد وہ لڑکی بغیر شوہر کی اجازت کے شوہر کے گھر سے نکل کر اپنی ماں کے گھر چلی گئی، اور اپنی ساس یعنی شوہر زید کی ماں سے کہہ گئی کہ آپ کے بیٹے سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے، اس کا بھائی اس کی بہن سب نے کہا سب کے سامنے کہ اس لڑکے زید کے گھر یا زید سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ شرعی رو سے کیا وہ لڑکی زید کے نکاح سے نکل گئی؟ یا نہیں نکلی، تو کیا خلع واقع ہو جائے گا؟ یا اگر زید طلاق دینا چاہے تو کیا شریعت کے حساب سے دے سکتا ہے؟ اگر دے سکتا ہے تو صحیح کیا ہے؟ کتنی طلاق دے؟
(۲) اور بیٹے پر تربیت پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟ بیٹا ۶/ سال کا ہے۔

Published on: Dec 8, 2016

جواب # 146260

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 175-153/SN=3/1438



 



(۱) صورتِ مسئولہ میں زید کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، وہ بدستور زید کے نکاح میں ہے، زید کو چاہئے کہ خاندان کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر بیوی کے ساتھ مصالحت اور رشتہ کو استوار کرنے کی کوشش کرے، اگر کوشش کے باوجود مصالحت نہ ہوسکے تو زید کو چاہئے کہ ایک طلاق دے کر بیوی کو چھوڑ دے، عدت گذرنے پر بیوی خود بہ خود بائنہ ہو جائے گی۔



(۲) طلاق کی صورت میں بیٹے کی عمر چاند کے حساب سے سات سال ہونے تک حق پرورش بیوی یعنی بچے کی ماں کو حاصل رہے گا، اس کے بعد زید اپنے پرورش میں لاسکتا ہے، سات سال ہوجانے پر ماں یا ان کے گھر والے اپنے پاس بچے کو رکھنے پر جبر نہیں کرسکتے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات