India

سوال # 130944

آج کل نوجوان مسلمان لڑکیوں کو کالجوں میں پروفیشنل کورس جیسے انجنیئرنگ وغیرہ پڑھوانے کا ایک عام چلن ہوگیا ہے ۔ اس میں بہت سے دین کی طرف منسوب لوگ بھی مبتلا ہیں؛
۱ ۔ اس پڑھائی میں جوان مسلمان لڑکیاں جن میں کی بعض برقعہ تو پہن لیتی ہیں مگر اکثر اپنا چہرہ کھلا رکھ کر مرد اساتذہ سے پڑھتی ہیں۔
۲۔ تعلیم اکثر مخلوط ہوتی ہے جس میں لڑکوں کے ساتھ بات چیت، اختلاط کا قوی اندیشہ اور اس کے مواقع ہوتے ہیں۔
۳۔ مرد ممتحن کے سامنے بیٹھ کر زبانی امتحان دینا پڑھتا ہے ۔
۴۔ ان پڑھائی کا بنیادی مقصد حصول معاش ہوتا ہے ۔ اس طرح کی پڑھائیوں میں اپنی جوان لڑکیوں کو بھیجنے والوں کا کیا حکم ہے ۔
۵۔ اگر کوئی کہے کے ہم دوران تعلیم پورے شرعی پردہ میں جائیں گے یا اپنی لڑکیوں کو بھیجیں گے اور ہمارا مقصد کچھ نوکری کروانا نہیں ہے اور ہماری بچیاں چونکہ دینی مزاج رکھتی ہیں، یہ اس ماحول میں بھی دوسری مسلمان لڑکیوں میں دین کی محنت کرِیں گی اور پوری احتیاط سے ایک مثالی مسلمان بن کر رہیں گی۔ تو اس طرح کا خیال رکھنے کا کیا حکم ہے اور ان خیالات و جذبات سے اوپر مذکور پڑھائی کا کیا حکم ہوگا؟

Published on: Oct 29, 2016

جواب # 130944

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1385-1448/H37=01/1438

(۱) مسلمان نوجوان لڑکیوں کا مسلسل چہرہ کھول کر مرد اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا بھی ناجائز ہے۔

(۲) مخلوط تعلیم کے نظام کے تحت بھی تعلیم حاصل کرنا مسلمان نوجوان لڑکیوں کے لیے جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔

(۳) امتحان دینے کا حکم بھی وہی ہے کہ جو نمبر ایک کے تحت تعلیم حاصل کرنے کا لکھ دیا گیا۔

(۴) حصولِ معاش کی ذمہ داری مذہبِ اسلام نوجوان لڑکیوں پر نہیں ڈالتا پیدا ہونے سے شادی ہونے تک باپ و دیگر اولیاء اس کی ضروریات و معاش کا تکفل کرتے ہیں شادی ہو جانے پر شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے بڑھاپہ میں عامةً شوہر اور اولاد دیکھ بھال اور ضروریات کا نظم کرتے ہیں۔

(۵) اگر وہ لڑکیاں بچپن سے دینی مزاج رکھتی ہیں تو عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ غیر اسلامی و بے دینی کے ماحول میں اجنبی لوگوں کو ان لڑکیوں کو سپرد نہ کیا جائے کہ اس صورت میں بچپن سے جو کچھ دین داری کا مزاج ہوگا وہ بھی ختم ہو جائے گا دوسری مسلمان لڑکیوں میں وہ بیچاری محنت کرکے ان کو کیا دین دار بنائیں گی خود اپنا رہا سہا بچپن کا دین بھی برباد کر بیٹھیں گی وہ مثالی مسلمان تو کیا بنیں گی خود مذہبِ اسلام سے ہی اُن کے آزاد ہوجانے کے خطرات پیدا ہوجائیں گے بلکہ آئے دن ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں کہ جن کو زبان اور قلم پر لانے سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اخباربیں و دیگر ذرائعِ ابلاغ کو استعمال کرنے والے لوگ ہم سے زیادہ واقف ہیں پیش آنے والے ہولناک حالات و واقعات کے مقابلہ میں محض خیالات و جذبات کی کچھ بھی حیثیت نہیں اللہ پاک مسلمانوں کو دین کی صحیح فہم عطاء فرمائے۔ آمین



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات