Bangladesh

سوال # 1092

نوزائیدہ بچے کی اذان کہنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ از راہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔ پہلے اگر بائیں کان میں اقامت کہہ دیں اورپھر دائیں کان میں اذان کہہ دیں ، تو کیا اسے لوٹا نا ہوگا یا یہی کافی ہے؟تفصیل سے بتائیں۔


ہم نے بچی کا نام ھانیہ طے کیا ہے ، کیا یہ نام صحیح ہے؟ اس نام کا صحیح تلفظ و املا اور معنی کیا ہوگا؟

Published on: Jul 28, 2007

جواب # 1092

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 788/ب = 749/ب)


 


بچے کی اذان کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بچے کو ہاتھ میں لے کر قبلہ رو ہوکر کھڑا ہو، دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے۔ اور اذان و تکبیر دونوں میں حي علی الصلاة وحي علی الفلاح کہتے وقت دائیں اور بائیں متوجہ ہو۔ قال السندي: فیرفع المولود عند الولاد علی یدیہ مستقبل القبلة، ویوٴذّن في أذنہ الیمنی ویقیم في الیسری، ویلتفت بالصلاة لجھة الیمین وبالفلاح لجھة الیسار (کذا في تقریرات الرافعي علی رد المحتار: ج۱باب الأذان)


صورتِ مسئولہ میں اذان و اقامت چوں کہ خلافِ سنت ہوگی اس لیے دوبارہ کرلینا بہتر ہے۔


هانیہ عربی کا لفظ ہے اس کے معنی خوش و خرم رہنے والی کے ہیں خدمت گذار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ دونوں معنی صحیح ہیں، لہٰذا نام رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ لفظ ہائے ہوز کے بعد الف ساکن، نون کے زیر یا کے زبر اور اردو میں اخیر کی هاء کے سکون کے ساتھ ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات