India

سوال # 7552

کیا دعا انسان کی قسمت تبدیل کرسکتی ہے؟ اگر تبدیل کرسکتی ہے، تو ہمیں کچھ انسانوں کی مثال بتادیں۔

Published on: Oct 15, 2008

جواب # 7552

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1527=1444/ د


 


حدیث میں آتا ہے لا یرد القضاء إلا الدعا اور کسی حدیث میں إلا البر کا لفظ بھی آیا ہے۔ یعنی قضا کو دعا کے علاوہ کوئی چیز ٹال نہیں سکتی یا قضا رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنے کی وجہ سے بھی ٹل جاتی ہے۔ علماء نے اس حدیث کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ قضا (تقدیر کا فیصلہ) جو علم الٰہی کے مطابق ہے، اس میں تو تبدیلی نہیں ہوتی، لاَ تبدیلَ لکلِماتِ اللّٰہِ سرے مراد یہی تقدیر کا فیصلہ جو علم الٰہی کے مطابق ہے، اور دوسری تقدیر وہ ہوتی ہے جو فرشتوں کو مشروط طور پر بتلائی جاتی ہے، مثلاً اس کی عمر ۶۰ سال ہے لیکن اگر اس نے خوب دعائیں کیں یا والدین کے ساتھ خوب حسن سلوک کیا تو اس کی عمر اسی سال کردی جائے گی، چنانچہ اس نے دعائیں کیں یا حسن سلوک کیا جس سے ساٹھ سال کی تقدیر بدل کر اسی سال والی آگئی یہ تبدیلی فرشتوں اور کارکنان تکوین کے اعتبار سے ہے ورنہ علم الٰہی میں تو پہلے سے متعین ومعلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے گا جس کی بنا پر اس کی عمر اسی سال ہوگی۔ اس کو تقدیر مبرم کہتے ہیں اور جس میں تبدیلی ہوجاتی ہے اسے تقدیر غیرمبرم کہتے ہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات