Pakistan

سوال # 6777

برائے کرم مجھے استخارہ کا صحیح طریقہ بتائیں۔

Published on: Aug 24, 2008

جواب # 6777

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1293=1215/ د


 


جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے صلاح لے لیوے، اس صلاح لینے کو استخارہ کہتے ہیں، مثلاً کہیں شادی کی بات چل رہی ہے، اب وہاں رشتہ کریں یا نہ کریں، یا فلاں جگہ سفر میں جانا ہے، جائیں یا نہ جائیں تو ایسی باتوں کے لیے حدیث میں استخارہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے ناکامی سے حفاظت ہوجاتی ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نماز نفل پڑھے اس کے بعد خوب دل لگاکر یہ دعا پڑھے: اللَّہمَّ اِنِّي أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُک بِقُدْرَتِکَ وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہَذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِيْ فِيْ دِیْنِيْ وَدُنْیَايَ وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ فَاقْدُرْہ لِيْ وَیَسِّرْہُ لِيْ ثُمَّ بَارِکْ لِيْ فِیْہ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِیْنِي وَدُنْیَايَ وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْہُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْہُ وَاقْدُرْ لِي الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ أَرْضِنِيْ اور جب ھذا الأمر پر پہنچے تو دونوں مرتبہ دل میں اس کام کا خیال (دھیان) کرلے جس کے لیے استخارہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک مرتبہ استخارہ کرنے سے دل کا میلان کسی طرف واضح نہ معلوم ہو تو متعدد بار استخارہ کرتے رہیں۔ حتی کہ دل کا رجحان کسی ایک جانب ہوجائے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات