India

سوال # 6399

میں کشمیر کا رہنے والا ہوں، میں برے عمل کا علاج چاہتاہوں۔ مجھے بری نگاہ کی بری عادت ہے۔ میں اس پر غالب آنا چاہتا ہوں لیکن بے سود۔ مجھے بتائیں کہ اس برے عمل سے بچنے کے لیے میں کیا کروں؟ کیا میں بیعت ہوجاؤں؟ برائے کرم میرے لیے دعا کریں۔ میں ایک نیک مسلمان کی طرح مرنا چاہتاہوں۔

Published on: Aug 13, 2008

جواب # 6399

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 760=708/ ل


 


بہتر تو یہی ہے کہ آپ کسی متبع سنت بزرگ سے بیعت ہوجائیں اور جب تک بیعت نہیں ہوتے ہیں، آپ ایسے وقت میں جب کہ عورتیں یا امارد سامنے ہوں، ہمت کرکے اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور ذکر شروع کردیں او راگر دل میں خیال پھر آئے تو اللہ کی وعیدوں کا استحضار کریں۔ حضرت تھانوی علیہ الرحمة نے اپنی کسی کتاب میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص دورانِ طواف بدنگاہی کررہا تھا کہ اچانک ایک ہاتھ ظاہر ہوا اور اس نے زور سے مارا کہ اس کی دونوں آنکھوں کی بینائی سلب ہوگئی، اس لیے اس وقت اللہ کی طرف سے مواخذہ کا استحضار رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان بری حرکتوں سے محفوظ رکھے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات