Pakistan

سوال # 5220

بعد از سلام عرض ہے کہ زید انتہائی پریشانی میں ہے۔مجھے ہمیشہ حلال روزی کی خواہش رہی لیکن آج تک جتنے کاموں میں ہاتھ ڈالا تمام میں نقصان اٹھایا اورقرض داری مقدر بنی، پچھلے چار پانچ سالوں سے جس کار وبار سے وابستہ ہوں اس میں اب تک کروڑوں قرض دار ہوچکا ہوں۔ گھر والے بھی میری وجہ سے نہایت پریشان ہیں۔ حالات اور بدنامی کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے جھوٹ اور غیر شرعی کام کرنے پڑرہے ہیں۔ براہ کرم بتائیں کہ یہ آزمائش ہے یا عذاب نیز دین سے تعلق دن بدن گہرا ہورہا ہے۔ جواب کا بے چینی سے انتظار ہے۔ آپ سب کے دعا کا طلب گار۔

Published on: May 7, 2008

جواب # 5220

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 483/ ب= 593/ ب


 


یہ آپ کی آزمائش ہے، اکر کسی کی جائداد یا مال آپ نے کبھی ہڑپ کرلیا ہے تو اس کو جلد سے جلد واپس کردیں اور اس سے معافی مانگیں، مبادا حقوق تلفی کی وجہ سے یہ قرض داری کے حالات سامنے آرہے ہوں اوراگر ایسا نہیں ہے تو اسے اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھیں وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ (القرآن الکریم) آپ بکثرت یہ دعا پورے یقین کے ساتھ پڑھیں اللّٰھم اکفني بحلالک عن حرامک وأغنني بفضلک عمن سواک ہرروز مغرب بعد سورہٴ واقعہ ایک مرتبہ پڑھ لیا کریں۔ اور چاشت کی نماز کا بھی اہتمام کریں۔ ان شاء اللہ کچھ دنوں کے بعد حالات درست ہوجائیں گے۔ ہاں ناجائز وغیرشرعی کاموں سے اجتناب کریں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات