India

سوال # 5001

میں کچھ مسائل جاننا چاہتا ہوں جو کہ بہت اہم ہیں۔ ایک لڑکا جو کہ کال سینٹر میں کام کررہا ہے اپنی آفس کی ایک لڑکی کے ساتھ ملوث ہے۔ اس کے والدین اس کے اس عمل کی وجہ سے بہت برہم ہیں۔وہ لوگ اپنے لڑکے کو متنبہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھ رہا ہے۔ اب وہ لوگ ایک دعا تلاش کررہے ہیں جس کے ذریعہ سے اپنے لڑکے کو اس لڑکی سے علیحدہ کرسکیں۔برائے کرم جلد از جواب عنایت کریں۔ اگلا سوال یہ ہے کہ فجر کی سنت کی کیا اہمیت ہے؟ کس وقت تک اس کو ادا کرنا چاہیے؟ ناخن کاٹنے کی سنت کیا ہے یعنی غسل سے پہلے یا بعد میں۔ دوسرے یہ کہ کیا مرد اپنی عورت کی رخصتی ہونے سے پہلے مباشرت کرسکتا ہے؟ یعنی صرف ان کا نکاح ہوا ہے اور رخصتی نہیں ہوئی ہے؟

Published on: Jun 24, 2008

جواب # 5001

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 523=568/ل


 


لڑکے کے والدین کو چاہیے کہ گیارہ سرخ مرچ لیں اور ہر مرچ پر ۱۱/۱۱/مرتبہ یہ وَألْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ پڑھ کر اس کو آگ میں ڈال دیا کریں اور آگ میں ڈالتے وقت دونوں (لڑکا، لڑکی) کے درمیان تفریق کی نیت کیا کریں، ان شاء اللہ دونوں کے دل ایک دوسرے سے متنفر ہوجائیں گے۔ نیز وقتاًفوقتاً نوافل پڑھ کر بھی ان دونوں کے ناجائز تعلقات ختم ہوجانے کے لیے اللہ سے دعا کیا کریں۔


(۲)فجر کی سنت کی اہمیت اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے فجر کی دو رکعت پر جس قدر پابندی کرتے تھے اتنی کسی اورنفل پر نہیں کرتے تھے کما فی البخاری اورمسلم شریف میں ہے ?فجر کی دو رکعت دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں ۔ (شامی:۲/۴۵۳ باب الوتر والنوافل)


(۳)بہتر تو یہی ہے کہ اس کو فجر کی نماز سے پہلے ادا کرلیا جائے البتہ کسی وجہ سے اگر وہ سنتیں رہ جائیں اور جماعت شروع ہوجائے توایک رکعت ملنے کی اگر امید ہو اس وقت تک اوردوسرے قول کے مطابق تشہد ملنے کی امید ہو اس وقت تک وہ ان سنتوں کو ادا کرسکتا ہے۔ البتہ ایسی صورت میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ صفوں سے متصل سنتوں کے لیے کھڑا نہ ہو بلکہ مسجد سے باہر اگر جگہ ہو وہاں ادا کرے یا یہ کہ صفوں سے دور ستون کی آڑ میں ادا کرلے۔ صفوں سے متصل سنتوں کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔


(۴) بہتر یہ ہے کہ ناخن کاٹنے کے بعد غسل کرے۔


(۵) نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے بیوی سے صحبت کرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات