India

سوال # 470

براہ کرم، مجھے قبولیت دعا کا کوئی وظیفہ بتلادیں۔


نیز، میرے لیے دعا فرمائیں۔

Published on: May 1, 2007

جواب # 470

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 199/م=195/م)


 


قبولیت دعا کا کوئی مخصوص وظیفہ نہیں، البتہ بعض شرائط ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے، ورنہ دعا قبول نہیں ہوتی۔ حضرت ابوہریرہ -رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بعض آدمی بہت سفر کرتے ہیں اور آسمان کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں اور یارب یارب کہہ کر اپنی حاجت مانگتے ہیں مگر ان کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، ان کو حرام ہی سے غذا دی گئی تو ان کی دعا کہاں قبول ہوگی؟ (مسلم شریف)


 


اسی طرح غفلت و بے پروائی کے ساتھ بغیر دھیان دیئے دعا کے کلمات پڑھیں، تو حدیث میں اس کے متعلق بھی آیا ہے کہ ایسی دعا بھی قبول نہیں ہوتی.


 


بعض مرتبہ انسان دعا مانگتا ہے اور قبولیت کی جو مطلوبہ شرائط ہیں وہ بھی موجود ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ دیکھتا ہے کہ جو دعا مانگی وہ قبول نہیں ہوئی، تو قبولیت کا مطلب سمجھ لینا چاہیے۔ حضرت ابوسعید خدری -رضی اللہ عنہ- سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان جو بھی دعا اللہ سے کرتا ہے اللہ اس کو عطا کرتا ہے، بشرطیکہ اس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کی ہو۔ اور قبول فرمانے کی تین صورتوں میں سے کوئی صورت ہوتی ہے: ایک یہ کہ جو مانگا وہی مل گیا، دوسرے یہ کہ اس کی مطلوبہ چیز کے بدلے اس کو آخرت کا کوئی اجر و ثواب دیدیا گیا، تیسرے یہ کہ مانگی ہوئی چیز تو نہ ملی مگر کوئی آفت و مصیبت اس پر آنے والی تھی وہ ٹل گئی۔ (مسند احمد و مظہری)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات