United Arab Emirates

سوال # 19696

میں لگ بھگ چار سال سے باہر رہتا ہوں کیوں کہ ہماری مجبوری ہے گھر پر ایک میں ہی ہوں کمانے والاہوں جس سے ہم لوگوں کا گزارا چلتاہے ہمارے ساتھ میں اور رشتہ دار بھی رہتے ہیں مجبوری میں جیسے ہماری خالہ خالو اور ان کے بیٹا بیٹی سبھی کی ذمہ داری ہے، اب ہماری شادی بھی ہو گئی ہے۔ چھٹی تو ایک سال پر ہوتی ہے ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ انڈیا واپس آجاؤں اور کچھ کام کروں مگر وہاں کے حالات دیکھنے کے بعد کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے نہ ہی کوئی کام کا ٹھکانہ ہے نہ ہی کوئی کاروبار کا سلسلہ۔ مجھے مہربانی کرکے کوئی مشورہ دیجئے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اور ادھر رہتاہوں تو بیوی کے حقوق پورے نہیں ہوتے اسی لیے میں بہت پریشان ہوں دل بھی ادھر نہیں لگتا ہے بہت مشکل سے میں نے ادھر چار سال کاٹے ہیں۔ دین کے لیے بھی وقت نہیں لگا پاتا ہوں اس لیے بھی زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ زندگی بھی نکلتی جارہی ہے۔ اس لیے برائے مہربانی ہمارے لیے دعا بھی کیجئے آپ سبھی حضرات اور کوئی وظیفہ بتادیجئے جو ہر وقت پڑھتا رہوں۔ اللہ آپ لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین۔

Published on: Feb 24, 2010

جواب # 19696

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(م): 293=293-2/1431


 


اپنے وطن (انڈیا) میں اگر جائز اور مناسب روزگارمل جائے تو وطن میں رہنے کو ترجیح دینا چاہیے، اس کے لیے تلاش وکوشش جاری رکھئے، ہرنماز کے بعد تین مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر دعا بھی کیا کیجیے کہ اے اللہ اپنے وطن میں مجھے حلال ذریعہ مقدر فرمادے، فارغ اوقات میں درود شریف بھی پڑھا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے خیر کا راستہ آسان فرمائے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات