Pakistan

سوال # 19427

میرا سوال یہ ہے کہ بخاری شریف میں صلوة التسبیح کا ہونا ثابت نہیں ہے اس بارے میں کوئی مستند حدیث حوالہ سے بتائیں اور نماز میں سے رفع یدین کا ختم ہونااور نماز کا صحیح طریقہ بھی حدیث کے حوالہ سے بتائیں ۔ برائے کرم سوال کا جواب جلد ارسال فرمائیں۔

Published on: Mar 6, 2010

جواب # 19427

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(ل): 311=87tl-3/1431


 

صلاة التسبیح کی روایت ابوداوٴد، ابن ماجہ، بیہقی، ترمذی شریف وغیرہ میں موجود ہے۔ علامہ شامی نے کثرت طرق کی وجہ سے اس کو حسن کا درجہ دیا ہے، قال فی الشامی: وحدیثہا حسن لکثرة طرقہ، ووہم من زعم وضعہ، وفیہا ثواب لا یتناہی ومن ثم قال بعض المحققین: لا یسمع لعظیم فضلہا ویترکہا إلا متہاون بالدین (شامي: ۲/ ۴۷۱، ط زکریا دیوبند) نماز سے تکبیر تحریمہ کے علاوہ میں رفع یدین کا ختم ہونا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحتاً مذکور ہے: عن عبد اللہ قال: ألا أخبرکم لصلاة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: فقام فرفع یدیہ أول مرة ثم لم یعد وفي نسخة ثم لم یرفع (نسائی شریف: ۱۵۸) نیز اجلہٴ صحابہ جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر، حضرت علی، عبداللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہم صحابہ کرام رفع یدین نہیں کرتے تھے، امام مالک رحمہ اللہ جو مدینہ کے امام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بھر میں کسی کو نہیں پہچانا جو پہلی تکبیر کے بعد رفع یدین کرتا ہو۔ (المدونة الکبریٰ) پتہ چلا کہ نماز میں رفع یدین کا حکم منسوخ ہے۔ نماز کا صحیح طریقہ جاننے کے لیے، اعلاء السنن، فتح القدیر، بدائع الصنائع وغیرہ کا مطالعہ کریں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات