India

سوال # 170177

ہمارے والد بیمار رہتے تھے اور روز روز ڈاکٹر کے خرچے اٹھا نے لائق ہمارے حالات نہ تھے ۔ہمارا اک بھائی کمپونڈر ہے اس کی مدد سے اکسر گھر پر ہی علاج ہو جاتا تھا۔اک دن ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو ئی اور حسب معمول ان کو ڈرپ لگائی اور اور وہ کہی چلا گیا یہ کہ کر کی دوسری بوتل ابہی مت چڑھا نا وہ کچھ وقفہ سے یا پھر کل چڑھے گی ۔پر مینے وہ یہ سوچ کر چڑھا دی کی کئی کئی بوتلے اک ساتھ چڑھا ہی دیتے ہیں ہم جب طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے ۔لیکن اس بوتل کے چڑھا نے کے تین چار گھنٹے بعد ان کو شدت کا جاڑ ا آیا اور انکی سانس اکھڑ گئی اور پھر قا بو میں نہی آئی ہم ان کو لیکر اسپتال گئے اور وہاں دوسرے دن انتقال ہو گیا۔اب میں انکی موت کا زمہ دار اپنے آپ کو سمجحتا ہوں کیونکہ اللہ کے رسول نے منع فرمایا ہے کی اگر آپ حکمت نہی جانتے ہیں یا کم جانتے ہیں تو کسی کا علاج نہی کرین۔اپ بتائیں میں اپنے گناہ کا کفارہ کیسے ادا کروں؟

Published on: May 13, 2019

جواب # 170177

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 968-851/H=09/1440



آپ کو جب کہ اپنے قصور کا اعتراف و اقرار ہے تو اپنی کوتاہی پر سچی پکی توبہ کریں اور والد مرحوم کے لئے جانی مالی جس قدر ہو سکے ایصال ثواب اور دعاءِ مغفرت و دعاءِ رفع درجات کازندگی بھر اہتمام کرتے رہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات