india

سوال # 169957

میرا سوال یہ ہے کہ میں کاروبار کرتا ہوں اکثر لوگوں سے بحث اور جھگڑے ہوتے رہتے ہیں کچھ لوگوں سے تو میری لڑائی بھی ہو گئی ہے اور میرے پڑوسی بھی میرے سے جلتے شاید معلوم نہیں تنگ کرتے رہتے ہیں ہمیشہ تکلیف دیتے رہتے ہیں اکثر پڑوسیوں پر بہت غصہ آتا ہے مارنے کا دل کرتا ہے مگر ہمیشہ دل میں خوف رہتا ہے دوکان پر آتے ہیں دل میں خوف سا ہوتا ہے ، ڈر اور خوف کی وجہ سے میں کاروبار نہیں کرپاتا ہوں،ہمیشہ دل میں ڈر خوف رہتا ہے اس کے لئے کچھ بتائیں ایک بار تو کچھ لوگوں نے میرے ساتھ مارپیٹ بھی کی ہے ناجائز کے اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت غصہ آتا ہے یہ سوچ سوچ کے ڈیپریشن کا شکار ہوں ، س بارے میں آپ صلی وسلم کی ایک حدیث بھی بتائیں کہ اگر کسی کو کوئی ناحق کے کوئی تکلیف دے رہا ہے تو اس بارے میں حدیث کہتی ہے ؟اور ایک سوال ہے میری دکان کی کچھ فاصلے پر ایک دکان خالی ہے ، اسے کرایہ پر لینا چاہ رہا ہوں بات چیت چل رہی ہے کاروبار کے لیے ، بہت اچھی ہے وہ دکان۔ یہاں سے خالی کرکے وہاں شفٹ ہو جاؤں ، اس کے لئے کچھ وظیفہ بتائیں ڈر اور خوف کے لیے کچھ مشورہ بتائیں ۔

Published on: May 2, 2019

جواب # 169957

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:786-132T/sn=8/1440



آپ ہمت سے کام لیا کریں اور ساتھ ساتھ آیت کریمہ ”الَّذِینَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُمْ بِذِکْرِ اللَّہِ أَلَا بِذِکْرِاللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ.(الرعد: 28)، اسی طرح ”فاللہ خیرحافظا“ کو کثرت سے پڑھا کریں، ان شاء اللہ دل کا خوف دور ہو جائے گا۔(ب) ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم بہ روز قیامت ظالم کے لئے اندھیرے کی شکل میں آئے گا، ایک دوسری روایت میں ہے: اصحابِ حق کو ان کا حق ادا کرو( قیامت کے دن پائی پائی کا حساب ہوگا) ؛ یہاں تک کہ اگر سینگ والی بکری نے بے سینگ والی بکری کو تکلیف دی تو قیامت کے دن اس سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔



عن ابن عمر، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الظلم ظلمات یوم القیامة.(سنن الترمذی، رقم:2030) عن أبی ہریرة، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لتؤدن الحقوق إلی أہلہا حتی یقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء.



(سنن الترمذی،رقم: 24:2420) (ج) ”یا لطیف“ کا ورد رکھیں، ان شاء اللہ عافیت کے ساتھ منتقل ہوجائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات