india

سوال # 166692

اگر کوئی شخص پیار اور محبت کی خاطر کلمہ طیب سے دعا ختم کرے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

Published on: Jan 5, 2019

جواب # 166692

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:229-283/N=4/1440



دعا کا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی حمد وثنا اور درود شریف سے دعا کا آغازکیا جائے اور دعا کا اختتام بھی اللہ تعالی کی حمد وثنا اور درود شریف پر کیا جائے، کلمہ طیبہ سے دعا ختم کرنا منقول نہیں اور غیر منقول وغیر ثابت کام پیارو محبت میں بھی نہیں کرنا چاہیے۔



أجمع العلماء علی استحباب ابتداء الدعا بالحمد للہ تعالی والثناء علیہ، ثم الصلاة علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وکذلک تختم الدعا بھما، والآثار في ھذا الباب کثیرة معروفة (الأذکار للنواوي، باب استفتاح الدعا بالحمد للہ تعالی والصلاة علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، ص: ۹۹،ط: مطبعة الملاح، دمشق)، التاسع (من آداب الدعاء): أن یفتتح الدعاء بذکر اللہ تعالی، قلت: وبالصلاة علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد الحمد للہ تعالی والثناء علیہ، ویختمہ بذلک أیضاً (المصدر السابق، ص: ۳۴۲)، قد أجمع العلماء علی استحباب ابتداء الدعاء بالحمد للہ تعالی والثناء علیہ، ثم بالصلاة علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وکذلک یختم بھا لفظاً (القول البدیع، ص: ۴۱۷، ط: موٴسسة الریان)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات