Pakistan

سوال # 165242

میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے محلے کا ایک مولوی صاحب ہے جو کہ ہر فرض نماز کے جماعت کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں پر کچھ (قرآنی آیات) دم کرکے پھونک مارتے ہیں۔اور پھر دونوں ہاتھوں کو اآنکھوں پر مَلتا ہے ۔ مطلب یہ کہ بینائی کیلئے یہ عمل کرتا ہے ۔
اب مسئلہ یہ ہے ۔کہ 1۔ وہ پھونک اتنی زور سے مارتا ہے کہ ساتھ نماز پڑھنے والا اچھی طرح سنتا ہے ۔ اور پھونک کا مطلب کہ ہاتھوں پر ہلکا سا تھوکتا ہے ۔
2۔ مولانا صاحب کو دیکھ کر اب جماعت کے بعد تقریباََ ہر ایک نمازی یہ عمل کرتا ہے یہ بعید میں کرے گا۔ اور اس طرح زور سے ہاتھوں پر دم کرکے آنکھوں پر مَلتے ہیں۔ محترم ! قرآن وحدیث کے روشنی میں جواب دیں کہ اس کا یہ عمل اس طرح ٹھیک ہے ؟اور کیا اس طرح تھوکنا اور پھونکنا ضروری ہے ؟

Published on: Oct 6, 2018

جواب # 165242

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 49-50/M=1/1440



(۱، ۲) بینائی کے لئے ہر فرض نماز کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں پر قرآنی آیات دم کرکے آنکھوں پر مَلنے میں کوئی حرج نہیں، اس عمل کو لازم و سنت نہ سمجھا جائے اور پھونک مارنے میں اعتدال رکھا جائے، پھونکنے مین تھوکنا اور بہت زور سے پھونک مارنا ضروری نہیں، معمولی پھونک یا تھوک بھی کافی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات