Pakistan

سوال # 163084

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعظام کہ ہم نے سنا ہے کہ صلاة التسبیح کے ساتھ کبیرہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کبیرہ گناہ توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں اب جب صلاة التسبیح کے ساتھ بھی کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو کیا یہ صلاة التسبیح توبہ کے قائم مقام ہوسکتی ہے یا نہیں؟

Published on: Jul 18, 2018

جواب # 163084

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1105-937/N=11/1439



جی ہاں! اگر کوئی شخص صغیرہ اور کبیرہ تمام گناہوں سے توبہ کی نیت سے صلاة التسبیح پڑھے گا تو اس کے صغیرہ اور کبیرہ تمام گناہ معاف ہوجائیں گے اور یہ نماز توبہ کے قائم مقام ہوگی؛ البتہ جن گناہوں کی توبہ میں صاحب حق کے حق کی ادائیگی ضروری ہے، ان میں توبہ کی تکمیل کے لیے حق کی ادائیگی بھی ضروری ہوگی ، جیسے: کسی کا نا حق مال کھایا ہو یا کسی کو ناحق مارا وغیرہ ہو یا نماز، روزہ وغیرہ چھوڑے ہوں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات