Bangladesh

سوال # 161413

معزز مفتی صاحب ،ہمارے علاقے کی مسجد میں امام صاحب عصر کی جماعت کے بعد دعا سے قبل ایک کتاب پانچ منٹ کا مدرسہ پڑھتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ یہ کتاب پڑھنا اور اسے روز کا معمول بنا لینا کیسا ہے ؟ اور اسی دوران پیچھے مسبوق اپنی نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہی امام صاحب فجر اور عصر کے وقت سرّی دعا کرتے ہیں اور باقی نمازوں میں جہری دعا کرتے ہیں لیکن اسی عصر کے وقت جہاں دعا سری کرتے ہیں وہاں کتاب لاؤڈ اسپیکر پر پڑھتے ہیں تو اپ سے گزارش ہے کہ دعا کا صیح طریقہ بھی بتا دیں،اور امام صاحب کا یہ عمل پہلا یہ کہ کتاب کا پڑھنا اور دوسرا دعا کو دو طریقوں میں کرنا اہل سنت ولجماعت کے نزدیک کہا تک درست ہے ؟خیرا

Published on: May 16, 2018

جواب # 161413

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1055-932/H=8/1439



”پانچ منٹ کا مدرسہ“ نامی کتاب کا مطالعہ ہم نے نہیں کیا اس لیے اس کے متعلق تو کچھ نہیں لکھ سکتے البتہ عصر کی جماعت کے بعد دعا سے قبل مائک پر کتاب پڑھنے سے عامةً مسبوقین نمازیوں کو خلل وتشویش ہوتی ہے اس لیے اتنی جلدی نہ پڑھنا چاہیے اطمینان کے ساتھ دعاء سے فارغ ہوکر پڑھیں تاکہ مسبوق بھی اپنی نماز سے فارغ ہوجائیں یہ التزام کہ فجر اور عصر میں تو سراً دعا کی جائے اور بقیہ نمازوں میں جہراً ہو درست نہیں، اچھا یہ ہے کہ سب نمازوں میں بعد سلام سراً دعاء کرلیا کریں تاکہ مسبوق نمازیوں کی نمازوں میں خلل نہ ہو اور کتاب یا تو بغیر مائک کے پڑھیں یا پھر اتنا وقفہ بعد سلام رکھیں کہ مسبوقین بھی نماز سے فارغ ہوجائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات