syria

سوال # 161176

حضرت، میرا آپ سے سوال ہے کہ ہمارا ہمسایہ بہت بے غیرت انسان ہے۔ ا س کی ایئرکولَر کی دکان ہے۔ وہ آئے روز گلی میں لوہا کاٹتا ہے۔ اس نے سب ہمسایوں سے لڑائی کی ہوئی ہے۔ دکان گلی کے ناکہ پر ہے۔ آئے دن محلہ کی عورتوں کو گھورتا رہتا ہے جب بھی ضرورت کے وقت گذریں۔ اور دکان پر آئے لوگوں کو کہتا ہے اپنے گھر کے علاوہ سارے ہمسایوں کے گھروں میں غیر مرد آتے ہیں چکلے (chakly) کھلے ہوئے ہیں۔ ہمارا گھر اس کی دکان سے پچھلی سائڈ پر ہے۔
(۱) جب وہ لوہا کاٹتا ہے ہماری نیند حرام ہو جاتی ہے۔ بات تک سمجھ نہیں آتی دماغ پھٹنے کو ہے۔ میں نے کئی دفعہ گھر والوں سے کہا تو وہ کہتے ہیں یہ لڑائی کرے گا، گالیاں دے گا اور تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے تم کچھ نہ کہو۔ کسی ہمسائے میں دم نہیں ہے بات کرنے کو، سب لڑائی سے ڈرتے ہیں۔ وہ بندہ شیر بنتا جارہا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے اسے مار ڈالوں، لیکن مسلمان کو مارنا جائز نہیں۔ میں نفسیاتی مریض بنتا جا رہا ہوں مجھے مسئلہ کا حل بتائیں؟
(۲) نئے ہمسائے آئے، ان کی عورتیں گھر سے نہیں نکلتیں، غریب لوگ ہیں چھننے (channy)کی رہ رہی ہیں یہ بندہ ان کی عورتوں کو گشتی کہتا ہے اور ان سے لڑائی کی، ان کے بیٹے کا سر پھوڑ دیا اور ہمارے گھر کو غلط کہتا ہے، وہ ہر اپنے گاہک کو ہمسایوں کی غلط کردار کشی کرتا ہے۔ اللہ کرے اس شخص کا خانہ خراب ہو جائے۔ اِس کیا کیا حل ہے؟ میرا دل کہتا ہے کہ ایک لڑائی ہو جانی چاہئے۔ مجھے رہنمائی کریں۔

Published on: May 14, 2018

جواب # 161176

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:919-742/B=8/1439



آپ کثرت سے یہ دعا پڑھتے رہیے ”اللَّہُمَّ إِنَّا نَجْعَلُکَ فِی نُحُورِہِمْ، وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُورِہِمْ“ کوئی وقت اور کوئی تعداد متعین نہیں، جب چاہیں آپ پڑھتے رہیں ان شاء اللہ آپ کی پریشانی کا حل نکلے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات