Pakistan

سوال # 160445

میں ایک کمپنی کے ساتھ کام کررہاہوں اور ہمارا معمو ل یہ ہے کہ ہم کام شروع کرنے سے پہلے دعا کرتے ہیں، اور کچھ وقت عرصہ سے ہم صبح کی مجلس میں تلاوت قرآن کے بعد اس کا ترجمہ بھی پڑھتے ہیں، اور کبھی کبھار دعا کی مجلس میں کچھ ہی ممبر شریک ہوتے ہیں ، اب تمام ممبروں نے ایک نوٹس جاری کیا ہے کہ تین چار دنوں تک جو بھی غیرحاضر ہوگا اس کے اکاؤنٹ سے اس کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی، میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ دعا یا قرآن کے ترجمے کی مجلس میں زبردستی اسٹاف کو شریک کرنے کا یہ نوٹس از روئے شرع کیسا ہے؟کیا منطقی نتیجہ نہیں ہوگا کہ اسٹاف صرف اپنی تنخواہ کو بچانے کے لیے مجلس میں شریک ہوں گے؟

Published on: May 16, 2018

جواب # 160445

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:869-732/sn=8/1439



دعا کرنا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا وغیرہ انفرادی اور ذاتی اعمال ہیں، کمپنی کے ذمے داران کی طرف سے ملازمین کو انھیں انجام دینے کی ترغیب دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس پر جبر جائز نہیں ہے اور نہ ہی یہ اعمال نہ انجام دینے کی بنا پر ملازمین کی تنخواہ وضع کرلینا جائز ہوگا؛ ہاں کمپنی ملازمین کو اس بات کا پابند بناسکتی ہے کہ وقت (یعنی کام کا وقت جو طے شدہ ہو) پرآفس میں موجود رہیں، تاخیر کی صورت میں حسب ضابطہ تاخیر کے بقدر تنخواہ وضع کرسکتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات