India

سوال # 158451

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کو کسی لڑکی سے محبت ہو گئی ہے لیکن وہ لڑکی زید سے محبت نہیں کرتی تو کیا زید اس لڑکی کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے خصو صاصلوة الحاجہ صلوة التھجد یا کوئی قرانی عمل ذکروازکار کرکے اس لڑکی کی محبت کو پانے کے لئے اللہ سے دعاء مانگ سکتا ہے اور جب اس لڑکی کو زید سے محبت ہوجائے تو زید کا مقصد اس لڑکی سے نکاح کرنا ہے ؟ برائے مہربای تشفی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

Published on: Feb 11, 2018

جواب # 158451

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 519-448/D=5/1439



کسی اجنبی لڑکی سے محبت کرنا ہی ناجائز اور گناہ ہے پھر اسے بھی محبت ہوجائے اس کی تدبیر کرنا گناہ پر گناہ ہے۔ لہٰذا اپنے ذہن، فکر اور قلب کو اس طرح کی ناجائز محبتوں سے خالی کرلیں، پس محبت پیدا ہوجائے اس کی دعا تو نہ کریں کہ یہ قبل از وقت اور ناجائز ہے۔



البتہ گھر والوں کا مشورہ بھی وہاں شادی کرنے کا ہو تو شادی ہوجانے کی دعا کرسکتے ہیں، پھر شادی کے بعد محبت کی دعا کریں سب سے عمدہ چیز اس سلسلے میں نماز استخارہ ہے یعنی بعد نماز عشاء دو رکعت نفل پڑھ کر استخارہ کی دعا پڑھ لیں جس میں معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا ہوتا ہے اور آدمی کی دعا کے مطابق جہاں خیر ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمادیتے ہیں۔ شادی کے سلسلے میں استخارہ کرنے کا حکم حدیث میں آیا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات