India

سوال # 149354

کیا قران پڑھ کر اجرت لینا جائز نہیں ہے ؟

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 149354

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 508-487/N=6/1438



جی ہاں! قرآن پاک پڑھ کر اس پر اجرت لینا جائز نہیں، جیسے:جنوب ہند کے بعض علاقوں میں کسی مرحوم یا مرحومہ کو ایصال ثواب کے لیے کسی حافظ کو بلاکر پورا قرآن یا اس کا کچھ حصہ پڑھواتے ہیں اور پڑھنے والے حافظ کو باقاعدہ طے کر اجرت دیتے ہیں، یہ شریعت میں بالکل ناجائز ہے اور اس طرح کسی مرحوم یا مرحومہ کو کوئی ثواب نہیں پہنچتا؛ کیوں کہ اس صورت میں جب قرآن پڑھنے والے نے پیسے کے لیے قرآن پڑھا تو خود اسی کو کچھ ثواب نہیں ملا، پس وہ کسی مرحوم یا مرحومہ کو کیا ایصال ثواب کرے گا؟ عن العیني فی شرح الہدایة: فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراء ة الأجزاء بالأجرة لا یجوز؛ لأن فیہ الأمر بالقراء ة وإعطاء الثوب للآمر والقراء ة لأجل المال فإذا لم یکن للقارئ ثواب لعدم النیة الصحیحة فأین یصل الثواب إلی المستأجر؟ ولو لا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في ہذا الزکان؛ بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا ووسیلة إلی جمع الدنیا، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون (رد المحتار، کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ۹:۷۷ط: مکتبہ زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات