INDIA

سوال # 147908

کیا میں دعا اور تسبیح پڑھ سکتا ہوں جب میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع سے فارغ ہو چکا ہوں اور غسل جنابت نہ کی ہو؟ جیسے سونے سے پہلے کی دعا، بیت الخلاء جانے کی دعا، جنات سے بچنے کی دعا، سوکر اٹھنے کی دعا وغیرہ۔ تسبیح: اسی طرح تیسرا کلمہ، درود شریف اور استغفار وغیرہ۔
مجھے معلوم ہے کہ قرآن پڑھناایسی حالت میں جائز نہیں ہے۔

Published on: Feb 18, 2017

جواب # 147908

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 532-501/SN=5/1438



 



جی ہاں! حالتِ جنابت میں (مثلاً جماع کے بعد غسلِ فرض سے پہلے) سونے سے پہلے کی ، بیت الخلاء جانے کی، جنابت او ردیگر آفات و بلیات سے بچنے کی دعائیں پڑھنا جائزہے، اسی طرح درود شریف، تیسرا کلمہ اور استغفار وغیرہ بھی حالت جنابت میں پڑھنے کی گنجائش ہے؛ لیکن بہرحال بہتر یہی ہے کہ آدمی غسل کرکے پاکی کی حالت میں دعائیں وغیرہ پڑھے یا باقی اگر کسی وجہ سے غسل میں تاخیر ہو جائے تو تلاوت قرآن کے علاوہ تمام معمولات پر عمل کرسکتا ہے۔ ولا بأس لحائض وجنب بقرأة أدعیة ومسہا وحملہا وذکر اللہ تعالی وتسبیح الخ (درمختار مع الشامی: ۱/۴۸۸، ط: زکریا) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات